کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 317
چوتھی نشانی: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر [اپنی سواری پر] مشرکین کے قافلہ کے قریب سے ہوا تو ان کے جانور بدک گئے، پہلے تو وہ تعجب میں پڑگئے، اور پھر کہنے لگے: آندھی چلی تھی۔‘‘[1] پانچویں نشانی: یہ سچے مؤمنین کا امتحان تھا، کہ کئی لوگ اس واقعہ کے بعد مرتد ہوکر ابو جہل سے جاملے، اور سچے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ثابت قدم رکھا۔[2] اس معجزہ معراج کی سب سے بڑی نشانی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے صاف ظاہری اور کھلا ہوا کلام کیا، اور اپنے دل سے اپنے رب کو دیکھا۔ امام سیوطی رحمہ اللہ کااس پر ایک مستقل رسالہ ہے جس میں اسراء کی تمام روایات جمع کی ہیں، اور اس کانام رکھا ہے: ’’الآیۃ الکبری في شرح قصۃ الإسرائ۔‘‘ جو کہ طبع ہوچکا ہے۔ ایسے ہی شیخ محمد ابو شبہ نے بھی ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام رکھا ہے: ’’الإسراء و المعراج۔‘‘ ارواح کا مسئلہ 74۔مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((واعلم أن أرواح الشہداء في حواصل طیر خضر تسرح في الجنۃ، وتأوي إلی قنادیل تحت العرش[3] وأرواح الکفار و الفجار في برہوت [وہي في سجین]۔)) ’’اور جان لیجیے کہ: شہداء کی روحیں عرش کے نیچے قندیلوں میں ہیں،جہاں وہ اڑتی پھرتی ہیں، اور مؤمنین کی روحیں عرش کے نیچے ہیں اور کفار اور فجار کی روحیں بئر برہوت میں ہیں۔ [یہ جہنم میں ایک کنواں ہے ]۔‘‘ شرح: … روح چیز ہے جس سے زندگی پیدا ہوتی ہے، جاندار چلتے پھرتے، بڑھتے اور ادراک و شعور رکھتے ہیں۔روح اللہ تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے، ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ ط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا﴾(الاسراء: 85) ’’اور(ا ے پیغمبر)آپ سے پوچھتے ہیں روح کیا ہے کہہ دے میرے مالک کا حکم ہے اورتم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عمل میں سے کچھ نہیں ملا مگر تھوڑا۔‘‘ مصنف رحمہ اللہ نے جو کچھ یہاں پر بیان کیا ہے یہ سارے حالات بعث سے قبل ہوں گے۔شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں جنت میں اڑ تی پھرتی ہیں، اور پھر عرش کے نیچے قنادیل میں لوٹ کر آجاتی ہیں۔ یہ صحیح حدیث [1] مصنف ابن ابی شیبہ کتاب المغازی، حدیث المعراج حین اُسرِیَ بالنبی، ح: 35896۔ [2] مستدرک حاکم، کتاب معرفۃ الصحابہ:ح: 4406۔ [3] کتاب(1878) الإمارۃ، باب بیان أن أرواح الشہداء فيالجنۃ‘‘حدیث عبد اللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ ۔