کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 300
أن ما أصابک لم یکن لیخطئک، وما أخطأک لم یکن لیصیبک، وإنک إن مت علی غیر ہذا دخلت النار))[1] ’’ اگر اللہ تعالیٰ اپنے تمام آسمانوں و الوں کو او راپنی تمام زمینوں والوں کو عذاب دے، تویقیناً وہ انہیں عذاب دینے میں ظالم نہیں ھوگا اور اگر وہ ان پر رحم کردے، تو ان پر اس کا رحم کرنا ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے اور اگر تمہارے لیے احد کے برابر بھی سونا ہو، یا احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہواورتم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو، تو وہ تم سے قبول نہیں کرے گا یہاں تک کہ تقدیر پر ایمان لے آؤاورجان لے کہ جو کچھ تجھے مل گیا ہے، وہ ٹلنے والا نہیں تھا اور جو کچھ تجھ سے ٹل گیاہے، وہ تجھے ملنے والا نہیں تھا۔اور اگر تمہاری موت اس کے علاوہ کسی عقیدہ پر آگئی تو تم جہنم میں جاؤ گے۔‘‘ اس لیے کہ اگر اللہ تعالیٰ فاجر یا کافر کو عذاب دے گا تو اس کے فسق و فجور او رکفر کی وجہ سے، اور اگر کسی نیک کام کرنے والے کو عذاب دے گاتو اس لیے کہ اس کا عمل اس قابل نہیں تھا کہ اسے جنت میں داخل کروا سکے۔ اس لیے کہ وہ عمل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ((یا عبادي! إن حرمت الظلم علی نفسي وجعلتہ بینکم محرماً، فلا تظالموا))[2] ’’ میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے نفس پر حرام کیا ہے، اور اسے تم پر بھی حرام کرتا ہوں، تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔‘‘ مصنف رحمہ اللہ کا فرمان،(تمام خلق اسی کی ہے، اور حکم اس کا چلتا ہے…)، خلقت اسی کی مخلوق ہے کائنات ساری اللہ کی ہے، اور حکم اسی کا چلتا ہے، کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ فرمانبردار اور اس کا تسبیح خواں ہے۔حقیقی ملکیت اور حقیقی حکم ہر ایک چیز پر اسی کا چلتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، ﴿أَ لَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ﴾(الاعراف، 54) ’’ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی(اسی کا ہے) یہ اللہ رب العالمین بڑی برکتوں والا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی خالق نہیں کہ ان کی تخلیقات آپس میں مشابہت اختیار کرلیں، بلکہ اللہ ہی حقیقی خالق اور اپنی تخلیقات میں منفرد و یکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، [1] سنن ابن ماجہ، باب فی القدر، حدیث، 76۔السنن الکبری للبیہقی،کتاب الشہادات، باب، ما ترد بہ شہادۃ أ ہل الأہوا، حدیث، 19409 ۔رواہ الآجري في الشریعۃ ص 185، ح، 212۔ وأبو داؤد،باب، في القدر [4699]، وأحمد5/ 182، وابن ماجۃ [77]۔ [2] مسلم ۔کتاب البر والصلۃ، تحریم الظلم ح، 4779۔ ابن حبان کتاب الرقائق، باب التوبۃ ح، 620۔ جامع معمر بن راشد باب الذنوب، ح، 882۔ سنن الکبری للنسائی کتاب الغضب باب تحریم الغضب، ح 10747۔