کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 294
دیتے ہیں۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں کثرت سے پریشانی سے متعلق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ((لا یزال البلاء بالمؤمن أو المؤمنۃ في جسدہ و في مالہ وفي ولدہ حتی یلقی اللّٰه ولیس علیہ من خطیئۃ))[1] ’’ مومن مرد یا مومن عورت ہمیشہ اپنے جسم اور مال اور اولادمیں پریشانی(آزمائش)کا شکار رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روزِ قیامت اللہ سے ملے گا اس پر اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوگا۔‘‘ ابن ابی دنیا رحمہ اللہ کی ایک روایت ہے جسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’مومن کو سر درد کی تکلیف، یا جو کانٹا چبھ جاتا ہے، یا کوئی اور تکلیف دینے والی چیز، روزِ قیامت اللہ اس کے بدلہ میں ایک درجہ بلند کریں گے اور اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف کریں گے ‘‘۔ شہادت کا اجر 67۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ((والشہید یأجرہ [اللّٰه ] علی القتل۔)) ’’شہید کوقتل ہوجانے پراللہ تعالیٰ اجرسے نوازیں گے۔ ‘‘ شرح، …شہید اسے کہتے ہیں جو دین اسلام کی سر بلندی، دعوت ِ اسلام کے فروغ اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان نثار کردے۔ ایسے لوگوں کا اللہ کے ہاں بڑامقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مردہ کہنے اور مردہ تصور کرنے سے منع کیا ہے، اس لیے کہ شہید کو اللہ تعالیٰ ایک نئی زندگی سے نوازتے ہیں، فرمانِ الٰہی ہے، ﴿ وَلَا تَقُولُوْا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَائٌ وَّلَکِن لَّا تَشْعُرُونَ ﴾ ’’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اُن کی نسبت یہ نہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں(وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے۔‘‘(البقرہ، 154) نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَائٌ عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ﴾(آل عمران،169) ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اُن کو مرے ہوئے نہ سمجھنا(وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور اُن کو رزق مل رہا ہے۔‘‘ [1] احمد/ حسنہ أرناؤوط۔