کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 290
﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَاء عِندَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُونَ﴾(آل عمران،169) ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے اُن کو مرے ہوئے نہ سمجھنا(وہ مردے نہیں ہیں) بلکہ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور اُن کو رزق مل رہا ہے۔‘‘ [1] اور ایسے ہی قبرستان والوں کی زیارت اور انہیں سلام کرنے والی حدیث سے بھی استدلال کیا ہے، اور کہا ہے کہ اگر قبروں والے سنتے نہ ہوتے تو زیارت قبور کا کوئی معنی نہ رہتا، کیونکہ انہیں اس موقع پر ’’ السلام علیکم یا أہل القبور‘‘کہہ کر’’ اور لفظ نداء ’’یا‘‘ سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ اگر مردے نہ سنتے ہوتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مخاطب نہ کرتے اور نہ ہی ہمیں صیغہ ء خطاب کے ساتھ سلام کرنے کا حکم دیتے۔ ان لوگوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار سے بھی استدلال کیا ہے، جیساکہ حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے قصہ میں ہے، جب ان کی موت کا وقت آن پہنچا تو انہوں نے فرمایا: ’’ کہ مجھے قبر کی طرف لے جانے میں جلدی نہ کریں، اتنی دور تک روکے رکھیں جتنی دیر میں اونٹ ذبح کیا جاتا ہے اور فرمایاکہ، ’’ میں تم سے مانوس ہوں گا، یہاں تک کہ میں اپنے رب سے رجوع کرلوں۔‘‘آپ بھی صحابی ہیں۔اور جن صحابہ نے یہ بات سنی انہوں نے اس کا رد نہیں کیا۔‘‘تو یہ کہا گیا کہ مردے سنتے ہیں، اور مانوس ہوتے ہیں۔ ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت سے علماء کے نزدیک مردے سنتے ہیں اور بعض باتوں کا جواب بھی دیتے ہیں۔ بعض علماء سماع موتیٰ کا مطلق انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ مردوں کو یہ باتیں فرشتوں کے ذریعہ پہنچتی ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ ملائکہ ہر مردہ اور زندہ کے ساتھ ہوتے ہیں اور انہوں نے عموم نصوص سے استدلال کیا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان، ﴿إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَی ﴾(النمل، 80) ’’کچھ شک نہیں کہ آپ مُردوں کو(بات) نہیں سنا سکتے ‘‘ آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو نہیں سنا سکتے، تو کوئی دوسرا من بدرجہ اولی نہیں سنا سکتا اور فریق اول کے دلائل کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ یا تو خاص ہیں۔ بدر والوں کا قصہ ان لوگوں کے ساتھ خاص ہے، او راحد والوں کا قصہ ان کے ساتھ خاص ہے۔ باقی ملائکہ کے ذریعہ سے ان تک بات پہنچتی ہے۔بعض کا کہنا ہے کہ، مردے اتنا ہی سنتے ہیں جتنے کے بارے میں شریعت میں دلیل وارد ہوئی ہے، جیساکہ قبر پر سلام کرنا وغیرہ۔ او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہیں اورجو سلام کرنے کا حکم دیا ہے، وہ سلام کی حالت کے [1] السنن الکبری، باب، فضل الشہادۃ، ح، 18301۔سنن أبو داؤد، باب، في فضل الشہادۃ، ح، 2522۔ مسلم باب، بیان أن أرواح الشہداء في الجنۃ، ح، 1887۔