کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 285
نہیں ہے، تمام تر مخلوقات اس ایک اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ﴿قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِی مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ اِئْتُوْنِی بِکِتَابٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَا اَوْ اَثَارَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ﴾(احقاف،4) ’’ کہہ دیجیے بھلا دیکھو تو سہی جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، مجھے دکھلاؤ تو انھوں نے زمین کیا بنایا یا آسمانوں میں اس کاکوئی شریک ہے اگر تم سچے ہو تو سے پہلے کی کوئی آسمانی کتاب یا اگلی کوئی عملی روایت اپنی بات کے ثبوت میں لے کر آؤ۔‘‘ وہ اکیلاہی خالق و مالک ہے، اس کے علاوہ دنیا بھی کی تمام مخلوقات مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ َلَو ِاجْتَمَعُوْا لَہٗ وَ اِنْ یَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ﴾(الحج،73) ’’لوگو(تمھارے سمجھانے کے لیے)ایک مثال بیان کی جاتی ہے دل لگا کر سنو جن کوتم اللہ کے سوا پکارتے ہو(بت یا او تار یاجن یا شیطان یا اولیاء وغیرہ) وہ ہر گز ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے گو اس کے(بنانے کے)لیے(سب کے سب) اکٹھا ہوجائیں(سب مل کر بھی نہیں بنا سکتے)اور(خیر بنانا تو کجا)اگر مکھّی ان سے کچھ اچک لے(چین کرچل دے) تو(پھر)اس سے وہ چیز چھڑا نہیں سکتے(وہ ہاتھ کہاں آتی ہے)چاہنے والا اور جسے چاہتے ہیں دونوں بودے کمزور۔‘‘ نماز جنازہ کا بیان 63۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((والتکبیر علی الجنائز أربع، وہو قول مالک بن أنس و سفیان الثوری، والحسن بن صالح، وأحمد بن حنبل، والفقہائ، وہکذا قال رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم۔)) ’’جنازہ پر تکبیریں چار ہیں۔ یہی مالک بن انس، سفیان ثوری، حسن بن صالح[1]، احمد بن حنبل اور فقہاء رحمہم اللہ کا قول ہے۔اور ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے۔ شرح، …اگرچہ یہ ایک فرعی مسئلہ ہے لیکن مصنف نے اسے یہاں پر ذکر کیا ہے تاکہ جنازہ کے مسئلہ میں صحیح سنت واضح کرسکیں۔ اہل سنت والجماعت کے ہاں مشہوریہی قول ہے کہ نماز جنازہ چار تکبیر ہے۔ جیساکہ بخاری شریف کی [1] حسن بن صالح، ہمدانی، ثقہ، فقیہ، عابد ہے ۔ شیعہ ہونے کا الزام لگایا گیا، 169 ہجری میں انتقال ہوا۔ ’’ تقریب‘‘ (ص 239)، سیر اعلام النبلائ(7/361)۔