کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 275
جہنم ہے،اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔‘‘ اخلاص نیت تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔ اگر نیت اچھی ہوگی تو عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوگا، اور اس پر اچھا بدلہ ملے گااور اگر نیت بری ہوگی، تو اس کا بدلہ بھی ویسا ہی ہوگا۔ اسلام کے محاسن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نیک کام کا ارادہ کرنے سے بھی انسان کی اچھی نیت کی وجہ سے اس کے نامہ ء اعمال میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور برے کام کا فقط ارادہ کرنے سے اس کے نامہء اعمال میں برائی نہیں لکھی جاتی جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کرلے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ((عن النبی صلی اللّٰه علیہ و سلم فیما یروی عن ربہ عز و جل قال،((إن اللّٰه کتب الحسنات والسیئات ثم بین ذلک، فمن ہم بحسنۃ فلم یعملہا کتبہا اللّٰه لہ عندہ حسنۃ کاملۃ فإن ہو ہم بہا وعملہا کتبہا اللّٰه لہ عندہ عشر حسنات إلی سبعمائۃ ضعف إلی أضعاف کثیرۃ ومن ہم بسیئۃ فلم یعملہا کتبہا اللّٰه لہ عندہ حسنۃ کاملۃ فإن ہو ہم بہا فعملہا کتبہا اللّٰه لہ سیئۃ واحدۃ))[1] ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، وہ اپنے رب سے روایت کرتے ہیں،(اللہ تعالیٰ نے) فرمایاہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور پھر اسے بیان کردیا۔ سو جس کسی نے نیکی کا ارادہ کیا، اور وہ نہیں اس نے نہیں کی، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے بھی اپنے پاس اس کے لیے پوری نیکی لکھ دیتے ہیں،(کیونکہ اس نے اس کا ارادہ کیا تھا)اور اگر اس نے، نیکی کا ارادہ کیا، اور وہ نیکی کردی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک، اور اس سے بہت زیادہ گنا، لکھ دیتے ہیں اور اگر کسی نے گناہ کا ارادہ کیا، اور وہ گناہ کیا نہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے(گناہ نہ کرنے کی وجہ سے) ایک نیکی لکھ دیتے ہیں۔اور اگر اس نے گناہ کا ارادہ بھی کیا، اورگناہ بھی کیا تو تب اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہی بدی لکھتے ہیں۔‘‘ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی عمل قابل قبول ہوگا، خالص اس کی رضامندی کے حصول کے لیے ہو، اور شرک کے شائبہ سے بالکل پاک ہو۔ جس کام میں کسی بھی طرح سے شرک کی ملاوٹ ہوگی وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے، جیسا کہ حدیث قدسی ہے، ((أناأغنی عن شرک الشرکائ،ومن عمل عملا أشرک فیہ معي غیری ترکتہ وشرکہ))(مسلم، 2985) [1] رواہ البخاری،باب، من ھم بحسنۃ أو بسیئۃ، ح،7062۔ أ خرجہ مسلم فی الإیمان باب، إذا ہم العبد بحسنۃ کتبت … رقم، 131۔