کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 266
والی طلاقوں کو تین شمار کرتے ہیں۔مگر طلاق کا طریقہ وہی جائز اور قابل عمل وعقیدہ ہوگا جو طریقہ دین اسلام یعنی قرآن مجید، حدیث مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت ہوگا۔ یاد رہے نکاح حلالہ حرام ہے۔ اس کے ذریعہ بیگم خاوند کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ نکالنے والے اور نکلوانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ ] [1]تفصیل مطولات میں دیکھ لیں۔ مسلمان کے خون کی حرمت 58۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((ولا یحل دم امريئٍ مسلم یشہد أن لا إلہ إلا اللّٰه ویشہد أن محمداً عبدہ و رسولہ، إلا بإحدی ثلاث [2]، زانٍ بعد إحصان، أومرتد بعد إیمان، أومن قتل نفساً مؤمنۃ [بغیر حق]، فیقتل بہ، وما سوی ذلک فدم المسلم علی المسلم حرامٌ [ أبداً]، حتی تقوم الساعۃ۔)) ’’جو انسان اس بات کی گواہی دیتا ہواللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے، او ریہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘اس کا خون حلال نہیں ہوتا سوائے تین لوگوں کے خون کے، ’’شادی کے بعد زنا کرنے والا، دین اسلام سے مرتد ہونے والا، یا کسی مسلمان جی کو ناحق قتل کرنے والا، اسے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو بھی ہیں، مسلمان کا خون مسلمان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے، یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے۔ ‘‘ شرح، …مراد وہ نفوس ِ بشریت ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے معصوم قرار دیا گیا ہو۔ یعنی ان نفوس کی حفاظت ہے جن کوشریعت نے اسلام قبول کرنے، یا جزیہ ادا کرنے، یا پھر امان عطا ہونے کی وجہ سے معصوم قرار دیا ہو۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ﴿وَلَا تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ﴾(الانعام، 151) ’’ کسی جان(والے) کو جس کے قتل کو اللہ نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر(یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔‘‘ [1] صحیح سنن ترمذی، للألبانی، الجزء الاوّل ؍ حدیث، 894 [2] اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب الدیات، باب قولہ تعالیٰ { إن النفس بالنفس } (12/ 201، مع الفتح) میں نقل کیا ہے اور مسلم نے یہ حدیث، کتاب القسامۃ، باب، ما یباح بہ دم المسلم 1676) میں نقل کیا ہے ۔