کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 235
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں یہاں تک کہ وہ لا إلہ إلا اللّٰہ کا اقرار کرلیں، جب وہ اس کا اقرار کرلیں، اور ہماری نمازوں کی طرح نمازیں پڑھیں، اور ہمارے قبلہ کو قبلہ اپنائیں، اور ہمارے ذبیحہ کی طرح ذبح کریں،تو یقیناً ان کا خون اور ان کا مال ہم پرحرام ہو جاتاہے، سوائے اس کے حق کے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے ‘‘اور ایک روایت میں ہے، میمون بن سیاہ نے مالک بن أنس سے سوال کیا، اور کہا، اے ابو حمزہ ! کون سی چیز انسان کے خون اور مال کو حرام کرتی ہے ؟ آپ نے فرمایا: جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے، اور ہماری نمازیں پڑھے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے، وہ مسلمان ہے، اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمان کے ہیں، اوراس پر وہی واجبات ہیں، جو مسلمان پرہیں۔‘‘ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں، ((إن النبی صلي اللّٰه عليه وسلم قال،((من استقبل قبلتنا، وأکل ذبیحتنا فہو المسلم لہ ما للمسلم، وعلیہ ما علی المسلم، وحسابہ علی اللّٰه))[1] بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس نے ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا، اور ہمارا ذبیحہ کھایا،پس وہ مسلمان ہے، اس کے وہی حقوق ہیں جو مسلمان کے ہیں، اوراس پر وہی واجبات ہیں، جو مسلمان پرہیں،اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔‘‘ ’’ لا نکفِّرُ أھلَ القبلۃ‘‘کس کا مسلک ہے؟ اہل حق کا یہ مذکورہ بالا قول(کہ جب تک اہل قبلہ میں سے کوئی شخص ضروریاتِ دین کا انکار نہ کرے اسے کافر نہ کہا جائے) یہ شیخ ابو الحسن اشعری رحمہ اللہ اور بیشتر اشاعرہ کا مذہب ہے، امام شافعی رحمہ اللہ کے مذکورہ ذیل قول سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے، وہ فرماتے ہیں، ’’میں بجز خطابیہ کے اور باقی گمراہ فرقہ والوں کی شہادت رد نہیں کرتا(یعنی کافر نہیں سمجھتا) اس لیے کہ یہ خطابیہ جھوٹ بولنے کو حلال سمجھتے ہیں۔’’منتقیٰ‘‘ میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق بھی یہی نقل کیا ہے کہ ’’امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہا، یہی اکثر و بیشتر فقہا حنفیہ کامسلک ہے، ہاں بعض فقہا حنفیہ ہر اہل حق کے مخالف کو کافر کہتے ہیں۔‘‘ اہل قبلہ کون ہیں؟ ملا علی قاری رحمہ اللہ ’’شرح فقہ اکبر‘‘میں فرماتے ہیں، [1] جامع معمر بن راشد، باب الإیمان والإسلام، حدیث، 718۔جامع البیان فی تفسیر القرآن للطبری، سورۃ البقرۃ، القول فی تأویل قولہ تعالی، { ومن حیث خرجت فول وجہک… وأما قولہ، إ لا الذین ظلموا منہم، حدیث، 2084۔