کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 205
گا تو کچھ بھی نظر نہیں آئے گا، وہ اس کے پھل میں دیکھے گا تو اسے(خون کا نشان)کچھ بھی نہیں آئے گا…‘‘ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں، ((إذا حدثتکم عن رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم حدیثاً، فواللّٰه لأن أَخِرَّ من السمائ، أحب إليّ من أن أکذب علیہ، وإذا حدثتکم فیما بینی و بینکم، فإن الحرب خدعۃ، وإنی سمعت رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم یقول، سیخرج قوم فی آخر الزمان، أحداث الأسنان،سفہاء الأحلام، یقولون من خیر قول البریۃ، لا یجاوز إیمانہم حناجرہم، یمرقون من الدین، کما یمرق السہم من الرمیۃ، فأینما لقیتموہم فاقتلوہم، فإن فی قتلہم أجراً لمن قتلہم یوم القیامۃ))[1] ’’جب میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کروں [تو اسے قبول کرلو،اس لیے کہ] اللہ کی قسم! اگر میں آسمان سے منہ کے بل گرجاؤں یہ میرے لیے اس سے بہتر ہوگا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ بولوں۔اور جب میں تم سے کوئی ایسی بات کروں جو میرے اور آپ کے درمیان ہو تو جان لو کہ بیشک جنگ دھوکہ ہے اور بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے، ’’ آخری زمانے میں ایسے لوگ آئیں گے جو عمر میں چھوٹے ہوں گے، بیوقوف خیالات والے ہوں گے۔ وہ بہترین بات کہا کریں گے، مگر اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کے گلوں سے اوپر نہیں جائے گا۔تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ انہیں قتل کر ڈالو، اس لیے کہ ان کے قتل کرنے میں قاتل کے لیے قیامت والے دن اجر ہے۔‘‘ خوارج کی نشانیاں خوارج کی دو نشانیاں ہیں، 1۔ مسلمان حکمران کے خلاف بغاوت اوراس کی حکومت گرانے کی کوشش۔ 2۔ کبیرہ گناہوں کی وجہ سے عام مسلمانوں پر کفر کا فتوی۔ ان کے ایسا کرنے کی وجہ دین میں غلو ہے۔اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سے ہی خبردار کرتے ہوئے غلوکرنے سے منع کیاتھا۔ آپ نے فرمایاتھا، ((إِیَّاکُمْ وَ الْغُلُوَ، فَإِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ الْغُلُوُ))[2] [1] صحیح البخاری کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم، باب قتل الخوارج والملحدین بعدإقامۃ الحجۃ علیہم، حدیث، 6546 ۔صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب التحریض علی قتل الخوارج حدیث، 1836۔ [2] أخرجہ النسائی (3057)، ابن ماجۃ (3029)، وصححہ الألباني في الصحیحۃ (1283)۔