کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 190
شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی کتاب ’’نواقض اسلام ‘‘ اور علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کی کتاب ’’ معجم مناھی اللفظیۃ ‘‘ کا مطالعہ کرنا بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی امان میں رکھے، آمین۔ فضائل صحابہ 29۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وخیر ہذہ الأمۃ بعد وفاۃ نبیہا:أبو بکر و عمر وعثمان(رضی اللّٰه عنہم)، ہکذا رُويَ لنا عن ابن عمر قال:((کنا نقول ورسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم بین أظہُرِنا: إن خیر الناس بعد رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم أبو بکر و عمر و عثمان، ویسمع النبي صلي اللّٰه عليه وسلم بذلک فلا یُنکرہ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس امت کے سب سے بہترین فردحضرت ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں۔ ایسے ہی حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے(وہ کہتے ہیں): ’’ ہم کہا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے،:’’بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہترین انسان ابوبکر رضی اللہ عنہ [1]ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور پھر عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا کرتے تھے، اور اس پر انکار نہیں کیا کرتے تھے۔‘‘[2] شرح: …وہ نصوص جن میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے فضائل وارد ہوئے ہیں مختلف انداز میں اور کثرت کے ساتھ ہیں۔احادیث میں سب سے زیادہ جن کے فضائل بیان ہوئے ہیں، وہ جناب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔پھر اس کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے وہ فضائل جو احادیث میں اکٹھے بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ احادیث جن میں تینوں خلفاء کے فضائل بیان ہوئے ہیں اور چوتھے درجہ میں وہ احادیث ہیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔لیکن اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین لوگ ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ انبیاء علیہم السلام کے بعد کائنات کی افضل ترین مخلوق ہیں۔ ہر وہ مسلم جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل کی نعمت سے نوازا ہو، اور اس کے دین و عقیدہ کو رافضیت، شیعیت اور ناصبیت کی مصیبتوں سے محفوظ رکھا ہو، اس پر واجب ہے کہ ان لوگوں کے لیے جنت کی گواہی دے جن کی گواہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پہاڑ پر تھے تو پہاڑ تھر تھرا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] یہ بات صرف اس امت کی ہی نہیں بلکہ تمام امتوں میں، یعنی اللہ تعالیٰ کی کائنات میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تمام امتوں کے لوگوں سے افضل ہیں ۔ [2] اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، دیکھیں: صحیح البخاری کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضل أبی بکر رضی اللّٰه عنہ 7/16، مع فتح الباری اور باب مناقب عثمان رضی اللّٰه عنہ 7/ 53-54، مع الفتح اور مسند أحمد: فضائل الصحابۃ 53، 54، 55، 56، 57، 58، 59، 62، 63، 64، 401۔