کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 175
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں دجال کے متعلق ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی۔ وہ کانا ہوگا، اور جنت اور جہنم کی مانند اپنے ساتھ لائے گا۔ جسے وہ جنت کہے گا وہ جہنم ہوگی،(او ر جسے وہ جہنم کہے گا وہ جنت ہوگی)اور میں تمہیں اس سے ایسے ہی ڈراتا ہوں جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا تھا۔‘‘[1] حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دجال ظاہر ہوگا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوں گے۔ جسے لوگ آگ سمجھ رہے ہوں گے وہ ٹھنڈا پانی ہوگا، اور جسے لوگ پانی سمجھ رہے ہوں گے و ہ جلا دینے والی آگ ہوگی۔ سو تم میں سے جو بھی اسے پالے وہ اس میں واقع ہو جسے وہ آگ سمجھ رہا ہے، کیونکہ وہ میٹھا ٹھنڈا پانی ہوگا۔‘‘[2] نزول عیسی علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ آپ آسمان سے نازل ہوں گے اس لیے کہ جب یہودیوں نے آپ کو قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا، اور آسمانوں پر اٹھالیا۔ او ران کی جگہ ایک آدمی کو آپ کا شبیہ(مشابہ) بنادیا۔ جسے لوگوں نے سولی پر لٹکادیا۔ ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَّ قَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ وَ مَا قَتَلُوْہُ وَ مَا صَلَبُوْہُ وَ لٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَ مَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا o بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا ﴾(النساء: 157۔158) ’’اور کہنے لگے ہم نے مسیح بن مریم کو جو(اپنے تئیں) اللہ تعالیٰ کا رسول(کہتا) تھا مار ڈالاحالانکہ نہ اس کو مارڈالا اور نہ سولی دیا لیکن ان کو شبہ پڑ گیا اوجو لوگ اس میں(عیسیٰ کے بارے میں) اختلاف کر رہے تھے وہ خود شک میں تھے ان کو یقین نہ تھا(یا کوئی یقین نہیں ہے) مگر اٹکل پر چلتے تھے(یا چلتے ہیں) اور(سچی بات تو یہ ہے) کہ ان یہودیوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیایہ یقین ہے۔بلکہ اللہ نے اس کو اپنے پاس اٹھا لیا اور اللہ زبردست ہے حکمت والا۔‘‘ [1] البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، ح: 7127۔ [2] مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال، ح: 2934۔