کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 173
مصنف رحمہ اللہ اس بارے میں اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ بیان کررہے ہیں: 26۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((والإیمان بالمسیح الدجال۔)) ’’مسیح دجال(کے خروج اور اس کے فتنہ)پر ایمان [ لانا واجب ہے ]۔ ‘‘ شرح: … مسیح دجال کے خروج پر ایمان رکھنا حدیث سے ثابت ہے۔خروج ِ دجال کے وقت انتہائی شر پھیلا ہوگا، دجال طرح طرح کی آزمائشیں، فتنے اور خرافات لے کر آئے گا۔یہاں تک کہ حدیث کے مطابق پیدائش آدم علیہ السلام کے وقت سے لے کر قیامت تک کے فتنوں میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پیدائش آدم علیہ السلام سے تا قیامت ’’دجال ‘‘ سے بڑا فتنہ کوئی نہیں ہے۔‘‘ [1] صحیح احادیث سے دجال کا خروج ثابت ہے، اوریہ احادیث حد ِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ان احادیث میں سے ایک: حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، ہم آپس میں گفتگو کررہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیاگفتگو کررہے ہو؟ لوگوں نے کہا: قیامت کے بارے میں گفتگو کررہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت ہر گز قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں دیکھ نہ لو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفصیل بتائی: 1۔ دھواں 2۔دجال ‘‘مکمل حدیث آگے آرہی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اللّٰہُمَ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وِشّرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الْدَجَالِ))[2] ’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے، اور زندگی اور موت کے فتنہ سے، اور مسیح دجال کے شرکے فتنہ سے۔‘‘ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ میں دجال کے فتنہ سے پناہ مانگا کرتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے: ((اللّٰہُمَ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ، وِمِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الْدَجَالِ))[3] [1] مسلم کتاب الفتن، باب في بقیۃ أحادیث الدجال، ح: 2946۔ [2] البخاری (1377)، مسلم (588)، مختصر الشریعہ ص 203۔ [3] مسلم (590)، مختصر الشریعہ ص 203و عبد الرزاق في المصنف(875)۔