کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 171
’’اہل جنت سے کہا جائے گا: اے اہل جنت ! ہمیشہ ہمیشہ رہو، کبھی موت نہیں آئے گی اور اہل جہنم سے کہا جائے گا:اے اہل جہنم ! ہمیشہ ہمیشہ رہو کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘ حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے ر وایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یؤتی بالموت کھیئۃ کبش أملح، فینادي مناد: یا أھلأ الجنۃ! فیشرئبون و ینظرون، فیقول: ہل تعرفون ہذا؟ فیقولون نعم: ہذا الموت۔ وکلہم قد رأہ۔ ثم ینادي: یا أھلأ النار! فیشرئبون و ینظرون، فیقول: ہل تعرفون ہذا؟ فیقولون نعم: ہذا الموت۔ و کلہم قد رأہ۔فیذبح۔ثم یقول: یا أھل الجنۃ خلود فلا موت، و یا أھل النار خلود فلا موت)) [1] اس مسئلہ کی مزید تفصیل جاننے کے لیے دیکھیں: ’’توقیف الفریقین علی خلود أہل الدارین۔‘‘للعلامۃ مرعی الحنبلي، اور ’’ کشف الأستار إبطال أدلۃ القائلین بفناء النا ر‘‘ للأمام الصنعانی، اور الرد علی من قال بفناء الجنۃ والنار ‘‘، لشیخ الإسلام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰه۔ آدم علیہ السلام کس جنت میں تھے؟ 25۔ مصنف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وآدم [ علیہ السلام ] کان في الجنۃ الباقیۃ المخلوقۃ فأُخرج منہا بعد ما عصی اللّٰه [عزوجل ]…)) ’’اور حضرت آدم علیہ السلام باقی رہنے والی پیدا شدہ جنت میں تھے، اللہ تعالیٰ کے حق میں لغزش ہونے کے بعد انہیں وہاں سے اتارا گیا۔ ‘‘ شرح:… اس پیرائے میں مصنف رحمہ اللہ نے ان فرقوں کے باطل عقیدہ کی جانب اشارہ کیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ جس جنت میں حضرت آدم علیہ السلام تھے، وہ جنت کوئی اور ہے، وہ وہی جنت نہیں ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں سے وعدہ کررکھا ہے، آخرت میں ملنے والی جنت ابھی پیدا ہی نہیں کی گئی۔جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿ فَقُلْنَا ٰٓیاٰدَمُ اِنَّ ہٰذَا عَدُوٌّ لَّکَ وَلِزَوْجِکَ فَلَا یُخْرِجَنَّکُمَا مِنَ الْجَنَّۃِ فَتَشْقٰیo اِنَّ لَکَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْہَا وَلَا تَعْرٰی o وَاَنَّکَ لَا تَظْمَؤُا فِیْہَا وَلَا تَضْحٰی o فَوَسْوَسَ اِلَیْہِ الشَّیْطٰنُ قَالَ [1] متفق علیہ ۔بخاری باب: تفسیر سورۃ مریم ح: 4453۔ مسلم في الجنۃ و صفۃ نعیمہا، وأھلہا، باب النار یدخلہا الجبارون، ح: 2849۔