کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 170
نہ وہ(کبھی)اس میں سے نکالے جائیں گے(بلکہ ابدالا باد وہیں چین اڑاتے رہیں گے)۔‘‘ ایسے ہی جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَلَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا ٭اِلَّاطَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا﴾(النساء: 168۔169) ’’ جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے اللہ اُن کو بخشنے والا نہیں اور نہ اُنہیں رستہ ہی دکھائے گا۔ ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ(جلتے) رہیں گے۔‘‘ اور قیامت والے دن جہنمیوں کی پکاراس کے جواب کو اللہ تعالیٰ نے یوں نقل کیا ہے: ﴿وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ط قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ ﴾(الزخرف: 77) ’’ اور پکاریں گے کہ اے مالک! تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ(اسی حالت میں) رہو گے۔‘‘ نیزاللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ کافر جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے،مگروہ اس سے نکل نہیں پائیں، اوروہ ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں رہیں گے۔ فرمان الٰہی ہے: ﴿یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاوَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌo﴾(المائدہ 37) ’’دوزخ کی آگ سے نکلنا چاہیں گے اور اس میں سے نکلنے نہ پائیں گے اور ان کو ہمیشہ عذاب ہوتا رہے گا۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْالَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَتَبَرَّ اَ مِنْہُمْ کَمَا تَبَرَّئُ وْا مِنَّا کَذٰلِکَ یُرِیْہِمُ اللّٰہُ اَعْمَالَہُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْہِمْ وَ مَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّار﴾(البقرۃ: 167) ’’اور جو ماننے والے ہیں وہ کہیں گے کاش ایک بار اور ہم دنیا میں جاتے اور ہم ان سے الگ(ہوتے جیسے آج کے دن) یہ ہم سے الگ ہوتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ان کو دکھلائے گا جو نرے افسوس ہی افسوس ہوں گے اور ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہو گا۔‘‘ سنت سے دلائل حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یقال لأہل الجنۃ یا أھل الجنۃ! خلودلا موت۔ ولأھل النار، یا أھل النار: خلود لاموت))[1] [1] رواہ البخاری: 6179۔