کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 168
جان ایسی نہیں ہے، مگر اس کا ٹھکانہ جنت یا جہنم میں لکھ دیا گیا ہے، اور اس کا نیک بخت ہونا یا بد بخت ہونا لکھ دیا گیا ہے۔‘‘ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر توکل نہ کریں، اور عمل کرنا چھوڑدیں۔ سو جو کوئی ہم میں سے نیک بخت ہوگا، وہ اہل سعادت کے اعمال پر چل پڑے گا، اور ہم میں سے جو کوئی بد بخت ہوگا، وہ اہل شقاوت کے عمل پر چل پڑے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عمل کرو، ہر ایک کے لیے[اس کے مقدر میں لکھا ہوا عمل] آسان کردیا گیا ہے۔ جو کوئی اہل ِ سعادت ہیں، ان کے لیے اہل سعادت کے اعمال آسان کردیے گئے ہیں اور جو کوئی بد بخت ہے، اس کے لیے اہل شقاوت کے اعمال آسان کردیے گئے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت کیں: ﴿ فَأَمَّا مَن أَعْطَی وَاتَّقَی o وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَی o فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرَی o وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَی o وَکَذَّبَ بِالْحُسْنَیo فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرَی﴾(اللیل: 5 تا 10) ’’ تو جس نے(اللہ کے رستے میں مال) دیا اور پرہیزگاری کی اور نیک بات کو سچ جانا۔ اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پروا بنا رہااور نیک بات کو جھوٹ سمجھا۔ہم عنقریب اسے سختی میں پہنچائیں گے۔‘‘[1] حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ تم جانتے ہو یہ دو کتابیں کیا ہیں ؟ ہم نے کہا: ’’ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتادیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایا: ’’ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس میں اہل جنت کے نام ہیں، اور ان کے آباء کے نام اور قبائل کے نام ہیں،-[اس تفصیل کے بعد]-پھر اس کے آخر میں اجمالی تعداد کا بیان ہے۔ ان میں نہ ہی کسی طرح بھی کمی ہوگی اورنہ ہی زیادتی۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہنے لگے: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر عمل کس لیے کیا جائے ؟جب کہ اس معاملہ سے-پہلے ہی-فراغت ہوچکی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میانہ روی کے ساتھ استقامت پررہو، بیشک جنتی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر ہوگا، اگرچہ وہ کوئی بھی کام کرتا رہے۔اور جہنمی کا خاتمہ اہل جہنم کے کاموں پر ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی کام کرتا رہے۔‘‘پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ان دونوں کتابوں کو رکھ دیا۔ پھر فرمایا: ’’ تمہارارب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے، ایک گروہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں۔‘‘[2] [1] ابو داؤد باب فی القدر [ح:4696]، الترمذي تفسیر سورۃ الغاشیۃ [3344]، بخاری، باب: موعظۃ المحدث عند القبر[ح: 1296]، مسلم باب: کیفیۃ خلق آدم فی بطن امہ [ح: 2647]۔ [2] رواہ الترمذی [2142]،وأحمد [2/ 167]، وحسنہ الألباني في الصحیحۃ [848]۔ اس معنی میں ایک حدیث مسلم میں بھی ہے۔ مسلم [ح: 2648]، وابن حبان [موارد -1808]۔