کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 150
فضل و کرم اور اس کی رحمت سے ہوگا، ان لوگوں کی تفصیل کا کوئی علم نہیں کہ کون ہوں گے ؟ سوائے اس اجمال کے کہ انہوں نے کبھی کوئی خیر کا کام نہیں کیا ہوگا۔ لیکن قرآن و حدیث کے اس مبارک ذخیرہ اور سلف ِ صالحین کے عقیدہ اور اقوال میں کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ کسی بھی نبی یا ولی کو شفاعت کا کلی اور حتمی اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے مرضی ہے جنت میں داخل کردیں، اور جسے مرضی ہے جہنم میں رہنے دیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ کی قسم کوئی بڑے سے بڑا کافر فرعون اورہامان ابو جہل اور اس کے چیلے بھی جہنم میں نہ رہتے۔ بلکہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سب کو جہنم سے نکال دیتے، اس لیے کہ آپ رؤوف ہیں، رحیم ہیں، رحمت للعالمین ہیں۔آپ اپنے چچا ابو طالب کو بھی جہنم سے باہر نہیں نکال سکیں گے۔ حضرت ابراہیم اپنے والد آزر کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچائیں گے۔ مگر اللہ کے ہاں کے ان تمام لوگوں کی شفاعت ثابت بھی ہے جو اللہ کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ان ہی لوگوں کے لیے ہوگی جن کے لیے اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے کی اجازت دیں گے اور اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ اجازت دیں گے۔ مصنف رحمہ اللہ کا فرمان:(… اور کوئلہ بننے کے بعد جہنم سے نکالے جانے پر ایمان): کہ جب تمام قسم کی شفاعتیں ہوجائیں گی، اور پھر بھی کچھ لوگ جہنم میں رہ جائیں گے تو اس وقت ارحم الراحمین کی رحمت کام آئے گی، اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فرمائیں گے جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال دیا جائے، چنانچہ انہیں جہنم سے نکالا جائے گا، اور جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے۔پھر انہیں نہرحیات[زندگی کی نہر] میں ڈالا جائے گا اور ان میں دوبارہ زندگی پیدا ہوگی اوروہ لوگ جنت میں چلے جائیں گے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أما أہل النار الذین ہم أہل النار، فإنہم لا یموتون فیہا، وأما ناس من الناس، فإن النار تأخذہم علی قدر ذنوبہم فیحترقون فیہا فیصیرون فحماً۔ ثم یأذن اللّٰه عزو جل لہم في الشفاعۃ، فیخرجون من النار ضبائر فیبثون أو ینثرون علی أنہار الجنۃ، فیؤمر أھل الجنۃ، فیفیضون علیہم الماء، فتنبت لحومہم کما تنبت الحبۃ في حمیل السیل)) [1] ’’ اور رہے وہ جہنمی جو کہ اصلی جہنمی ہیں، بیشک وہ اس میں مریں گے نہیں۔اور لوگوں میں سے کچھ لوگ، بیشک آگ ان لوگوں کو ان کے گناہوں کی مقدار میں پکڑے گی۔ وہ اس میں جلیں گے اور کوئلہ بن جائیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے شفاعت کی اجازت دے گا۔ پھر وہ آگ سے گروہ در گروہ نکالے جائیں گے اور انہیں جنت کی نہروں میں ڈالا جائے گا۔پھر اہل جنت کو حکم ہوگا، وہ ان پر پانی بہائیں گے جس سے ان لوگوں پر گوشت ایسے اگے گا جیسے جھاگ سے کونپل چڑھتی ہے۔‘‘ [1] رواہ والبخاری (22)ومسلم (82) مختصر الشریعہ ص190عبدالرزاق في المصنف (801)۔