کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 148
افراد کی شفاعت قیامت کی سخت ترین گھڑیوں میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قائم کی جانے والی دوستی اس کی بارگا ہ میں کام آئے گی، اور نیک دوست ایک دوسرے کے بارے میں اللہ کے ہاں سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿الْأَخِلَّائُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِیْنَ ﴾(الزخرف: 67) ’’(جو آپس میں) دوست(ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار(کہ باہم دوست ہی رہیں گے)۔‘‘ افراد کی آپس میں ایک دوسرے کے متعلق شفاعت کے بارے میں کئی احادیث آئی ہیں۔ ان میں مجمل بھی ہیں۔ جیساکہ ابھی اوپر گزرنے والی حدیث، اور مفصل بھی ہیں جن میں مؤمنین کے بعض خاص طبقات کی شفاعت کا بیان ہے، جیسے: شہید، حافظ قرآن، وغیرہ۔ شہید کی شفاعت حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((للشھید عند اللٰہ ست خصال: یغفر لہ من أول دفعۃ من دمہ، ویری مقعدہ من الجنۃ، ویجار من عذاب القبر،ویأمن من الفزع الأکبر، ویحلی حلۃ الإیمان، ویزوج من الحور العین، ویشفع في سبعین إنساناً من أقاربہ))۔و فيالترمذی، وابن ماجۃ۔ وفي روایۃ للترمذی:((ویوضع علی رأسہ تاج الوقار، الیاقوتۃ منہا خیر من الدنیا وما فیھا، ویزوج اثنتین وسبعین زوجۃ من الحور العین، ویشفع في سبعین من أقاربہ))[1] ’’شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں چھ انعام ہیں:خون کے پہلے قطرہ کے ساتھ ہی اس کی مغفرت کردی جائے گی اورجنت میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جائے گا، اور عذاب قبر سے محفوظ کردیا جائے گا، اور اسے ایمان کا زیور پہنادیاجائے گا، اور اس کی شادی حور عین سے کردی جائے گی، اور وہ اپنے ستر قریبی رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا۔‘‘ ترمذی کی روایت میں ہے:’’ اس کے سر پر وقار کا تاج رکھ دیا جائے گا، جس کا ایک یاقوت دنیا وما فیہا سے بہتر ہوگا،اوربہتر جنتی حوروں سے اس کی شادی کردی جائے گی اور وہ اپنے ستر قریبی رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا۔‘‘ [1] الترمذی (1663)، ابن ماجۃ (2257)، وصححہ الألباني في صحیح ابن ماجۃ (2257)۔