کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 147
ایسے ہی قرآن کی بعض سورتوں کی خاص شفاعت ہوگی۔حضرت أنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((سورۃ من القرآن ماھي إلا ثلاثون آیۃ، خاصمت عن صاحبھا حتیّ أدخلتہ الجنۃ، ألا وھي تبارک)) [1] ’’ قرآن میں ایک سورت ہے وہ صرف تیس آیات ہیں، قیامت والے دن وہ اپنے پڑہنے والی کی طرف سے جھگڑا کرے گی، یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دے، اور وہ ہے’’ تبارک ‘‘ [یعنی سورۃ الملک] سورت بقرہ اور آل عمران کی شفاعت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سنا: ’’قرآن مجید اوراس پر عمل کرنے والوں کو قیامت کے روز اس طرح لایا جائے گا کہ سورت بقرہ اور آل عمران(ایک نور کی شکل میں) اس کے آگے آگے ہوں گی۔گویا کہ وہ دو بادل ہیں، یا سیاہ رنگ کے دو سائبان ہیں جن سے روشنی چمکتی ہے، یا صف بستہ پرندوں کی دو قطاریں(سایہ کیے ہوئے)ہیں، اپنے پڑھنے یا یا د کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔‘‘ [2] حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میں سے کسی ایک کا اپنے رب کے سامنے جھگڑا کرنا اس سے بڑھ کر حق پر نہیں ہوگا، جو مؤمنین اپنے جہنم میں داخل ہونے والے بھائیوں کے بارے میں رب سے جھگڑا کریں گے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے،اور حج کرتے تھے، انہیں جہنم میں داخل کردیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے، جاؤ ! اور ان میں سے جن کو پہچانتے ہو نکال لاؤ۔ وہ انہیں نکالیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ان میں سے جس کے دل میں ایک مثقالِ دینار کے برابر بھی ایمان ہو، اسے نکال لاؤ۔ یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے نصف مثقال کے برابر، پھر فرمائیں گے، رائی کے دانے کے برابر۔ پھر فرمائیں گے: ذرہ کے برابر۔ پھراللہ تعالیٰ فرمائیں گے: مؤمنین کے بہترین لوگوں نے شفاعت کردی، اب ارحم الراحمین باقی رہ گیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر کر یا دو مٹھیاں بھر کر جنت میں داخل کردیں گے۔‘‘[3] [1] طبرانی/حسنہ البانی، وفی معناہ رواہ ابو داؤ د و الترمذی۔ [2] مسلم، 3053۔ [3] کتاب الإیمان لابن مندہ (2/799، ح: 816)، التوحید لابن خزیمۃ (424، ح: 430)، الشریعۃ للآجري (335، ح: 861)، مستدرک حاکم کتاب الأہوال (4/ 626)، سنن ابن ماجہ، باب الإیمان (ح: 10)، سنن نسائی، باب: زیادۃ الإیمان (ح: 5010)، اور اس کی اصل بخاری شریف میں ہے، باب: وجوہ یومئذ ناظرۃ (ح: 7239)۔