کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 138
أھل شفاعتي۔ ثم أقبلنا مع رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم إلی الناس فقال: أتاني اللیلۃ آتٍ من ربي، فخیرني بین الشفاعۃ و بین أن یدخل نصف أمتي الجنۃ، فاخترت الشفاعۃ‘‘ فقالوا: یا رسول اللّٰه! اجعلنا من أہل شفاعتک۔ فقال رسول اللّٰہ صلي اللّٰه عليه وسلم: أشہد من حضر أن شفاعتي لمن مات من أمتي، لا یشرک باللّٰه شیئاً))[1] ’’ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا۔اور مجھے اختیار شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل کرنے-دومیں سے ایک کا-اختیار دیا۔ سو میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہمیں بھی اپنے اہل شفاعت میں کردیجیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میری شفاعت کے اہل لوگوں میں سے ہو۔‘‘پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ لوگوں کی طرف گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آج رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا۔اور مجھے اختیار شفاعت اور آدھی امت کے جنت میں داخل کرنے-دومیں سے ایک کا-اختیار دیا۔ سو میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمیں بھی اپنے اہل شفاعت میں کردیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں تم سب حاضرین کو اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میری شفاعت ان لوگوں کے لیے ہوگی جو اس حال میں مریں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔‘‘ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ((من أسعد الناس بشفاعتک یوم القیامۃ ؟ فقال النبي صلي اللّٰه عليه وسلم: لقدظننت یا أبا ہریرۃ أن لا یسألني عن ہذا الحدیث أحد أول منک، لما رأیت من حرصک۔ أسعد الناس بشفاعتي یوم القیامۃ من قال: لا إلہ إلا اللّٰه خالصاً من نفسہ)) [2] ’’ لوگوں میں کون سا خوش نصیب ہوگا جو روزِقیامت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کو پائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے علم پر تیری حرص دیکھ کر اس بات کا یقین تھا کہ یہ سوال تجھ سے پہلے کوئی نہیں پوچھے گا۔ میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہوگا جس نے اخلاص ِ قلب کے ساتھ ’’ لا إلہ إلا اللہ کہا ہوگا۔‘‘ شفاعت قہری کی نفی اللہ تعالیٰ شفاعت قہری کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاتَّقُوْا یَوْماً لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئاً وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ [1] صحیح، أحمد (2/ 28)، والترمذي (2571)، رواہ عبدالرزاق في المصنف (793) ۔ [2] رواہ البخاری باب الحرص علی الحدیث 99، وباب صفۃ الجنۃ ح: 6201۔ مختصر الشریعہ 189عبدالرزاق في المصنف (788)۔