کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 132
’’ دوری ہو دوری ہو، ان کے لیے جنہوں نے میرے بعد-اس دین کو-بدل ڈالا۔‘‘ ایسے ہی ظالم حکمرانوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو بھی اس ظلم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ اس شرف اور نعمت سے محروم رکھیں گے۔حضرت عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: ’’ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: سنو ! ’’ ہم نے عرض کیا: ’’ ہم سننے کے لیے بالکل تیار ہیں۔‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ میرے بعد حکمران آئیں گے، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرنا، بیشک جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم پر تعاون کیا، وہ حوض پر نہیں آئے گا۔ ‘‘[1] صحیح أحادیث میں اس کے علاوہ اور بھی کئی صفات وارد ہوئی ہیں، جنہیں طوالت کے خوف سے ترک کیا جارہا ہے۔ اگرچہ کئی مبتدعین، متکبرین، معاندین کی ناک خاک آلودہ ہی کیوں نہ ہو، جو اس کا انکار کرتے ہیں، اور اس کے وجود کے منکر ہیں اور یہ بات بہت مناسب ہے کہ ان کے درمیان اور اس حوض پر وارد ہونے کے درمیان پردہ حائل کردیا جائے۔ جیسا کہ بعض سلف صالحین رحمہم اللہ کا فرمانا ہے: ’’ جو کسی کرامت کا انکار کرتا ہے، وہ اسے نہیں پاسکتا۔‘‘ اگر بدعتی انکار کرنے سے پہلے ان احادیث کاعلم حاصل کرلیتا، جن کا ہم ذکرکرنے جارہے ہیں، تو وہ کبھی بھی اس کا انکار نہ کرتا۔شارحین حدیث اور آئمہ اہل سنت و الجماعت نے اس موضوع پرمفصل احادیث ذکر کرکے موضوع کا حق ادا کردیا ہے۔[2] انبیاء علیہم السلام کے حوض ہر نبی کے لیے حوض کا ہونا حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بیشک ہر نبی کا حوض ہوگا، اور وہ ایک دوسرے پر رشک کریں گے کہ کس کے ماننے والے اکثر آتے ہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ میرے حوض پر سب سے زیادہ لوگ ہوں گے۔‘‘[3] حضرت صالح علیہ السلام کا استثناء ؟ صحیح بات یہ ہے کہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح آپ کے لیے بھی ایک حوض ہوگا، جس پر آپ اپنی امت کی میزبانی فرمائیں گے۔ جو روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ کے لیے حوض نہیں ہوگا، یہ من گھڑت ہے۔ مصنف رحمہ اللہ نے بھی [1] رواہ الطبرانی وابن حبان، حدیث حسن ۔ الترغیب والترہیب 3315۔ [2] مزید دیکھیں: ’’ شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص (220)، معارج القبول (2/ 199-207)، وکنز العمال (14/ 415- 437) ۔ [3] اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’ التاریخ الکبیر ‘‘ (1/1/44) میں، اور امام ترمذی نے اپنی سنن میں ’’کتاب صفۃ القیامۃ، باب ماجاء في صفۃ الحوض (4/ 628) میں، اور ابن ابی عاصم نے ’’السنۃ ‘‘ (739) میں، اور الطبرانی نے ’’ الکبیر ‘‘ (7/212) میں نقل کیا ہے اور البانی رحمہ اللہ نے اسے ’’ الصحیحۃ‘‘ (1589) میں صحیح کہا ہے ۔