کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 130
((قلت یارسول اللّٰه! ما آنیۃ الحوض ؟ قال: والذي نفس محمد بیدہ لآنیتہ أکثر من عدد نجوم السمائ، وکواکبہا في لیلۃ مظلمۃ المصیحۃ، من آنیۃ الجنۃ، یشخب فیہ میزابان من الجنۃ، من شرب منہ لم یظمأ، عرضہ مثل طولہ، ما بین عمان إلی إیلۃ، ماؤہ أشد بیاضاً من اللبن، وأحلی من العسل)) [1] ’’میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حوض پر برتن کیسے ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے ! اس حوض کے برتن آسمان کے ستاروں سے بڑھ کر ہوں گے اور اس کے صاف موسم میں اندھیر رات میں تاروں اور کواکب سے بڑھ کرہیں، جو جنت کے برتنوں میں سے ہیں۔ اس میں جنت سے دو پرنالے بہائے جاتے ہیں۔ جس نے اس سے پی لیا، وہ کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہوگی۔عمان سے ایلہ تک۔دودھ سے بڑھ کر سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہوگا۔‘‘ ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرا حوض اتنا اور اتنا لمبا ہے۔جس پرستاروں کی تعداد کے برابرجام ہیں۔ اس کے پانی کی خوشبو مِسک سے زیادہ ہے، اور شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے بڑھ کر سفید ہے، جو شخص ایک بار حوض ِ کوثر سے پانی پی لے گا، اسے کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی اور جو شخص اس سے محروم رہا وہ کبھی بھی سیراب نہیں ہوگا۔‘‘[2] چونکہ اس میں نہر کوثر سے دو نہریں لا کر بہائی گئی ہوں گی، اس لیے اسے حوضِ کوثر کہنا درست ہے، اور اس پر یہ اصطلاح صادق آتی ہے۔ جب کہ باقی انبیاء کرام علیہم السلام کے حوضوں کو کوثر کہنا درست نہیں۔ کوثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے۔ حوض کے پہلے میزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس حوض پر اپنی امت کی میزبانی کرنا بھی ثابت ہے۔ عام مؤمنین کو یہ سعادت نصیب ہوگی۔ مگر مبتدعین کو اللہ تعالیٰ اس سعادت سے محروم رکھیں گے، اور انہیں اس حوض سے نہیں پلایا جائے گا۔ چنانچہ بخاری شریف میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بیشک میں تم لوگوں سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور جو میرے پاس آئے گا، وہ پئے گا، اور جو-اس حوض سے-پئے گا وہ کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ میرے پاس کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانتا ہوں گا [1] رواہ مسلم برقم 2300، عبدالرزاق في المصنف 829،ومختصر الشریعہ ص 194۔ [2] یہ حدیث حسن ہے، اسے طبرانی نے روایت کیا ۔ الترغیب والترہیب 5258۔