کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 128
أو قال: جمیعاً۔‘‘قال: قتادۃ: وذکر لنا أنہ یفسح لہ في قبرہ سبعون ذراعاً، ویملأ علیہ خضراً إلی یوم القیامۃ۔‘‘ثم رجع إلی حدیث أنس، قال: وأما الکافر والمنافق: فیقال لہ: ما کنت تقول في ہذا الرجل ؟ فیقول: لا أدري، کنت أقول ما یقول الناس۔ فیقال لہ: لا دریت ولا تلیت، ثم یضرب بمطراق من حدید ضربۃ بین أذنیہ، فیصیح صیحۃ یسمعہا من یلیہ غیر الثقلین)) [1] ’’ جب بندہ کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی-قبر سے-واپس پلٹ جاتے ہیں، تو بیشک وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بیٹھاتے ہیں۔ وہ دونوں اس سے کہتے ہیں کہ: اس آدمی کے بارے میں تو کیا کہتا ہے ؟ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ؟ فرمایا: سو جو کوئی مؤمن ہوگا وہ کہے گا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ فرمایا: پھر اس سے کہا جاتا ہے: جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھ لے، اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے اسے جنت کے ٹھکانے سے بدل دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے۔ یا فرمایا کہ ان سب کو دیکھ لیتا ہے۔‘‘ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ ہم سے بیان کیا گیا کہ: اس کی قبر کو ستر ہاتھ کھول دیا جاتا ہے، اور اسے سبزہ سے بھر دیا جاتا ہے۔‘‘(پھر انہوں نے دوبارہ حضرت أنس رضی اللہ عنہ والی روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا): اور رہا کافر اور منافق، سو اس سے کہا جاتا ہے: تم اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟۔ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں بھی وہی کچھ کہا کرتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ اس سے کہا جائے گا: ’’ نہ ہی تو نے جانا اور نہ ہی تو نے پڑھا۔ پھر لوہے سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان ایک مار ماری جاتی ہے۔ وہ ایسی چیخ مارتا ہے، جس کو اس کے قریب میں ثقلین-جنات اور انسانوں-کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے۔‘‘ عذاب قبر کے منکر کا حکم الغرض عذاب قبر کے مسئلہ پر دلائل حد ِتواتر کو پہنچے ہوئے ہیں اور جن لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے، وہ راہ حق اور منہج ِ سلیم سے ہٹے ہوئے ہیں، پس جو انسان دلائل جاننے کے باوجود تکبر اور تعصب کی بنا پر انکار کرے وہ کافر ہے۔ ہاں اگر کوئی انسان جہالت کی بناپر اس کا منکر ہو، یا متأول ہو، یا مقلد ہو کہ اسے اپنے سے پہلے لوگوں سے یہ مسئلہ ایسے ہی وراثت میں ملا ہو، اور اس پر حق بات عیاں نہ ہو، تو ایسا انسان کافر تو نہیں ہے، مگر گمراہ ضرور ہے۔ اسے سمجھانا چاہیے اور لوگوں کو اس کے عقیدہ سے خبردار کرنا چاہیے تاکہ لوگ اس کی گمراہی کا شکار نہ ہوں۔ [1] رواہ البخاری (1374)، ومسلم (2870)، مختصر الشریعہ ص 199۔