کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 126
((مِن عذابِ جہنم ومِن عذابِ القبرِ ومِن فِتنۃِ المحیا والمماتِ ومِن شرِ المسِیحِ الدجالِ)) [1] ’’جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے عذاب سے، اور زندگی اورموت کے فتنہ(آزمائش) سے، اور مسیح دجال کے شر سے۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ دعا ایسے سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے: ((أ عوذ بِک مِن عذاب جہنم وأعوذ بِک مِن عذاب القبر، وأعوذ بِک مِن فِتنۃِ المسِیح الدجال،وأعوذ بِک مِن فِتنۃِ المحیا والممات وأعوذ بِ مِن فِتنۃ القبِر))[2] جہنم کے عذاب سے، اور قبر کے عذاب سے، اور مسیح دجال کے شر سے، اور زندگی اورموت کے فتنہ(آزمائش) سے۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے: ((اللّٰهم رب جبرائیل ومیکائیل ورب إسرافیل أعوذ بک من حر النار ومن عذاب القبر)) [3] ’’اے اللہ جبریل اور میکائیل کے رب اور اسرافیل کے رب ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کی گرمی سے، اور قبر کے عذاب سے۔‘‘ مصنف رحمہ اللہ کا فرمان:(اور منکر و نکیر پر(ایمان لاتے ہیں): منکر اور نکیر دو فرشتے ہیں جو قبر میں آکر سوال کرتے ہیں۔یہ تو صحیح روایات سے ثابت ہے کہ قبر میں دو فرشتے انسان کے پاس آئیں گے، جو اسے بٹھائیں گے اور اس سے سوال کریں گے۔ ان سوالات کی تفصیل بھی بعض احادیث میں آئی ہے۔ بعض احادیث میں ان فرشتوں کے اوصاف اور نام بھی مذکور ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إذا قُبِرَ أَحَدُکُمْ أَوْ اْلإِنْسَانُ، أَتَاہٗ مَلَکَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ، یُقَالُ لأَِحَدِہِمَا الْمُنْکَرُ، لِلآَْخِیْرِ الْنَّکِیْرُ۔ فَیَقُوْلَانِ ِلَہٗ: مَا کُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ ہَذَا الْرَجُلِ ؟ فہو قائل ما کان یقول۔ فإن کان مؤمنا، قال: ہو عبد اللّٰه ورسولہ، أشہد أن لا إلہ إلا اللّٰه و أن محمد اً رسول اللّٰه، فیقولان: إنا کنا لنعلم أنک تقول ذلک۔ ثم یفسح لہ في قبر ہ [1] صحیح مسلم، باب ما یستعاذ منہ في الصلاۃ، برقم: 1354 ۔ [2] الأدب المفرد بالتعلیقات برقم: 694۔ صحیح المشکاۃ ۔برقم 941۔ [3] سنن النسائی برقم: 5519 ۔باب الاستعاذۃ من حر النار ۔ قال الشیخ الألبانی: صحیح ۔