کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 110
’’(آخر)اپنے گناہوں کیوجہ سے نوح کی قوم والے ڈبو دئیے گئے پھر آگ میں ڈالے گئے اور خدا تعالیٰ کے سوا ان کو کوئی مدد کرنے والا نہ ملا(جو خدا کے عذاب سے ان کو بچائے۔‘‘ عربی لغت میں لفظ ’’فاء‘‘بغیر کسی مہلت کے، تعقب کے لیے آتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ فوری ملنے والا عذاب قبر کا عذاب ہے۔ 5۔ پانچویں دلیل:… یہ بھی پہلی دونوں دلیلوں کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حشر سے قبل ایک انتہائی تنگ زندگی ذکر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی﴾(طہ: 124) ’’اور جس نے میری کتاب(قرآن) سے منہ موڑ لیا(دنیا میں) اس کی زندگی تنگ(گزرے گی)اور قیامت کے دن ہم اس کواندھا اٹھائیں گے۔‘‘ اس آیت کی تفسیر میں اہل ِ علم مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ ان میں سے بعض نے تنگی کی زندگی کو عذاب قبر پر محمول کیا ہے اوربعض نے اسے بد حالی اور معاشی تنگی پر محمول کیاہے۔ یہاں پر ایسا کوئی مانع نہیں ہے جس کی وجہ سے ان دونوں پر اس آیت کا محمول کرنا محال ہو۔ 6۔ چھٹی دلیل:…جب انسان مر جاتا ہے تو قبر اس کی پہلی منزل ہوتی جہاں پر اسے سوال و جواب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کافر ہوتو جواب دینے کی سکت نہیں رکھتا، اور اگر ایمان دار مؤمن ہوتو صحیح صحیح جواب دے پاتا ہے،جس کے بعد اسے دوبارہ آرام سے سلادیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں ثابت قدمی کا ذکر کیا ہے، فرمایا: ﴿یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ ﴾(ابراہیم: 27) ’’ اللہ مومنوں(کے دلوں) کو(صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی(رکھے گا) اور اللہ بے انصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘ امام بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے، حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((المسلم إذا سئل فی القبر یشہد أن لا إلہ لا اللّٰه وأن محمداً رسول اللّٰہ))[1] ’’جب مؤمن سے اس کی قبر میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔‘‘ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ 7۔ ساتویں دلیل: …زمین ہر انسان کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی بچاکر رکھے گی اور باقی جسم گل سڑ کر ختم ہوجائے گا۔اور یہ [1] تفسیرابن عباس، التحریر والتنویر لابن عاشور 12/252، تفسیر ابن ابی حاتم 9/32، تفسیر ابن عبد السلام3/91)۔