کتاب: شرحُ السنہ - صفحہ 100
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس زیادہ کی تفسیر دیدار ِ الٰہی سے کی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿لَہُمْ مَا یَشَائُ وْنَ فِیْہَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ ﴾(ق:35) ’’وہ جوچاہیں گے وہاں ان کو ملے گا اور ’’کچھ زیادہ ‘‘بھی ہمارے پاس ہے۔‘‘ مفسرین کرام فرماتے ہیں:’’ کچھ زیادہ‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ کے چہرہ کا دیدار ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: وہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم قیامت والے دن اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیاتم دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟جب بادل نہ ہوں۔‘‘کہنے لگے: نہیں۔پھر فرمایا: کیا تم چودھویں کی رات چاند کو دیکھنے میں تکلیف محسوس کرتے ہو؟ جب بادل بھی نہ ہوں۔ کہنے لگے نہیں۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے ! ایسے ہی تمہیں اپنے رب کے دیکھنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ جیسا کہ تم ایک دوسرے کو دیکھنے میں تکلیف نہیں محسوس کرتے۔‘‘[1] دیدارِ الٰہی کی اقسام مصنف رحمہ اللہ کا قول:(…اللہ بغیر کسی ترجمان اور حجاب کے ان کامحاسبہ کرے گا):یعنی قیامت والے دن انسان اپنے رب کے ساتھ خلوت میں ہوگا، اور رب بندے کے اعمال پر اس کا محاسبہ کرے گا۔ یہ محاسبہ اسی زبان میں ہوگا جو وہ سمجھتا ہوگا۔ اللہ اور بندے کے مابین کوئی ترجمانی کرنے والا نہیں ہوگا۔یہاں پر مصنف رحمہ اللہ کے کلام میں اجمال ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار دو قسم کا ہے۔ عام دیدار اور خاص دیدار۔ عام دیدار اہل ِ محشر کے حق میں وارد ہوا ہے۔ یعنی اس موقع پر سارے کے سارے لوگ اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔ یہ دیدار ِ الٰہی کئی مراحل میں ہوگا: پہلا مرحلہ:… تمام بشریت مسلمان، کافر اور منافق سب خلقت اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اس کا دیدار کرے گی۔یہ دیدار محشر میں ہوگا، اور اجمالی ہوگااور اس دیدار میں لوگوں کے احوال مختلف ہوں گے۔ مؤمنین اللہ تعالیٰ کے دیدار سے لطف اندوز ہوں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان میں سے ہی بنادے۔ کافر اور منافق ذلت، رسوائی اور حقارت کے عالم میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، جس سے لطف اندوز نہیں ہوں گے، بلکہ ان کے دل میں خوف و ڈر پیدا ہوگا، بے چینی بڑھ جائے گی، جس سے ان کے عذاب میں اضافہ ہوگا۔ [1] صحیح، رواہ مسلم (2986)، بخاری (7438)، مصنف (596)، مختصر الشریعہ (ص 158)۔