کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 99
کے سچے خریدار ہوتے ہیں، وہ بڑے سادہ اور بڑے نفیس ہوتے ہیں، ان میں دھوکہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ تو دنیا کے طالب ہیں، جو دنیا کے عہدوں، مال و منال اور سیاستوں کی لالچ میں دھوکے اور عہد شکنی کرتے ہیں، لیکن چونکہ نبی کی نگاہ درجات علیٰ پر مرکوز ہوتی ہے اور وہ جنت کا سچا خریدار ہوتا ہے، لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور نبی کے سچے أتباع سے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ دھوکہ دیں یا جھوٹ بولیں، یعنی ہرقل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف سن کر یہ تجزیہ کیا کہ جو ہستی ان اوصاف کی مالک ہے، وہ غدر نہیں کر سکتی، کیونکہ جو اﷲ کے سچے نبی ہوتے ہیں، وہ غدر نہیں کر سکتے۔ چہرۂ نبوت کے اوصاف: جیسے عبداﷲ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کفار قریش کا بڑا پروپیگنڈا سنا کہ وہ ساحر ہے، جادوگر اور شاعر ہے، اس میں جنون آچکا ہے، طرح طرح کی باتیں سنیں، سوچا کہ میں خود جا کر دیکھوں ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے، تو اس کے الفاظ ہیں: ’’فلما تبینت وجھہ، أیقنت بأن ھذا الوجہ لیس بوجہ کذاب ‘‘ جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا، تو میرے دل سے یہ گواہی اٹھی کہ یہ چہرہ جھوٹا نہیں ہو سکتا، قریب سے دیکھا اور پھر باتیں بھی سنیں، اس وقت آپ صحابہ کو وعظ فرما رہے تھے اور یہ جملے میں نے سنے: ’’ أفشوا السلام، ولینوا الکلام، وأطعموا الطعام، وصلوا باللیل والناس نیام، تدخلوا الجنۃ بسلام ‘‘ [1] سلام کو عام کرو، گفتگو کو نرم کرو، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، لوگ رات کو سوئے ہوں، تو تم نفل پڑھو، اﷲ تعالیٰ سے راز و نیاز کرو، اگر یہ کام کرو گے، تو بڑی سلامتی اور بڑے پیار کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ [1] سنن الترمذي، أبواب صفۃ الجنۃ، رقم الحدیث( 2485) وقال الترمذي: ’’ھذا حدیث صحیح‘‘