کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 98
الکلمۃ‘‘ ہر قل کے ہر سوال پر میری یہ کوشش تھی کہ میں کوئی ایسا جملہ کہنے میں کامیاب ہو جاؤں، جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہو یا آپ کی اہانت و تذلیل ہو، لیکن میں کامیاب نہ ہو سکا، البتہ اس سوال پر میں یہ جملہ داخل کرنے میں کامیاب ہوگیا کہ ماضی میں کوئی دھوکہ نہیں دیا، لیکن مستقبل میں ہمیں خدشہ ہے، ہمارا ایک دس سالہ صلح کا عہد ہو چکا ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ شاید وہ اس عہد کو توڑ دے۔ ہرقل کا تبصرہ: ہر قل نے اس کا کیا جواب دیا؟ وہ کہتا ہے کہ ’’ الرسل لا تغدر‘‘ یہ بات درست ہے کہ جو اﷲ کے سچے نبی ہوتے ہیں، وہ دھوکہ نہیں دیتے، ابو سفیان کہتا ہے کہ مجھے بڑی خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ جو خدشہ میں نے مستقبل کے حوالے سے ظاہر کیا، اسے اس نے تبصرے کے قابل نہیں سمجھا اور اس پر اس نے ایک لفظ نہیں کہا، البتہ بعض روایتوں میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ہرقل نے کہا ’’ أنتم أغدر ‘‘[1]کہ جو تم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کیں ہیں، ان صفات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ وہ دھوکہ نہیں دے سکتے، ہاں تم دے سکتے ہو اور واقعتا قریش مکہ نے عہد توڑ دیا، سن چھ ہجری میں یہ معاہدہ ہوا تھا، وہ دو سال بھی یہ معاہدہ نہ نبھا سکے، آٹھ ہجری میں ان سے غدر ہوا اور وہ میثاق کو توڑ بیٹھے، جس کے نتیجے میں محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر حملہ کر دیا اور مکہ فتح ہوگیا۔ دھوکہ کون دیتا ہے؟ ہرقل نے کیا کہا: ’’ الرسل لا تغدر ‘‘ اﷲ تعالیٰ کے سچے نبی دھوکہ نہیں دیتے، دھوکہ کون دیتے ہیں؟ جو طالب دنیا ہوں، لیکن جن کی نظر آخرت پر ہو اور جو آخرت [1] السیرۃ لابن کثیر(3/502) فتح الباري (1/ 36)