کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 89
کرتے ہیں اور اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم ایک ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ہیں، ایک ترقی یافتہ قوم کا ہم نے راستہ اپنایا ہے، اس پر فخر کرتے ہیں، یہ معلوم نہیں کہ اﷲ کے دین کو ذبح کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ اﷲ کے نبی نے اس سے روکا ہے۔ انشراح ایمان کا راستہ: تو پھر یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان کی حلاوت و انشراح حاصل نہیں ہوتا ، کیونکہ انشراح کا راستہ تو یہی ہے کہ اﷲ کو رب مان لو اور بس، اسلام کو دین مان لو اور بس، اس پر راضی ہوجاؤ، راضی ہونے کا معنی یہ ہے کہ بس اتنا ہی کافی ہے، اس سے زیادہ نہیں چاہیے، اس سے کم نہیں چاہیے، اتنے دین پر راضی ہوں، قانع ہوں اور بس! حلاوت ایمان کا تیسرا سبب: اور تیسری چیز یہ کہ ’’ وبمحمد رسولا ‘‘ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رسول مان لو اور بس! رسول ماننے کا معنی کیا ہے؟ بس رسول مان لیا، ان کا کلمہ پڑھ لیا، ’’ محمد رسول اللّٰہ ‘‘ کہہ لیا، انہی کی اطاعت کر لی، اس پر بس کر جاؤ، اب کوئی امام نہیں، کوئی مجتہد نہیں، کوئی محدث یا فقیہ نہیں، کوئی پیرو مرشد نہیں، ہاں کوئی اﷲ کے نبی کی بات کہے گا، تو وہ بات سنیں گے، اس کو قبول کریں گے، وہ اس کی اطاعت نہیں، وہ اﷲ کے نبی کی اطاعت ہے اور یہ ذاتی ملفوظات، ذاتی قصے کہانیاں ، چونکہ چنانچہ، موضوعات، کذب اور جھوٹ، اگر اس طرف توجہ ہے تو پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول تم نے کیا مانا ہے؟ رسول ماننے کا معنی: رسول ماننے کا معنی یہ ہے کہ ہر چیز میں ان کی اطاعت کرو، عقیدہ ، منہج، خلق، معیشت، معاشرت، کاروبار، ہر چیز میں اﷲ کے پیغمبر کا دین ہے، وہ سارے اعمال جو انحراف پر قائم ہونگے، تمہارے منہ پر مارے جائیں گے، ان کی کوئی ضرورت نہیں،