کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 82
سراسر ناکامی ہے۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ فتنوں کے دور میں انسان صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا، فرمایا: ’’ یبیع دینہ بعرض من الدنیا ‘‘[1]وہ اس طرح کہ وہ دنیا کے معمولی سے ساز و سامان کی خاطر اپنے دین کو بیچ دے گا، اپنی جھوٹی شہرت کے لئے مال کی طمع میں یا عہدوں کے لالچ میں وہ اپنے مشن اپنی توحید اور اپنے دین کا سودا کر دے گا، یہ انبیاء تو مبارک ہیں، جنہوں نے کوئی سودا نہ کیا، قوموں کا بائیکاٹ برداشت کر لیا، فتنے برداشت کر لئے، ان کی ماریں برداشت کر لیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایسے انبیاء سے متعارف کرایا، جنہوں نے دعوت دی، ’’ قولوا لا إلہ إلا اللّٰہ ‘‘ کہا، قوموں نے پتھر مارے، حتی کہ لہو لہان ہوگئے، ’’ یقول وھو یمسح الدم عن وجھہ اللھم اغفر لقومي فإنھم لا یعلمون ‘‘ وہ اپنے رومال سے اپنے چہرے کا خون صاف کرتے اور ساتھ ساتھ یہ دعا کرتے کہ اے اﷲ !میری قوم کو بخش دے، انہیں شعور نہیں ہے۔[2] غلبۂ دین: تو ایسے انبیاء بھی بڑے کامیاب ہیں، ان کی یہ استقامت اور مشن اور توحید کے ساتھ وفا ان کا ثمرہ ہے، لیکن اﷲ رب العزت نے جس نبی کے مشن کے غلبہ کا فیصلہ فرما لیا ہو: ’’ کذلک أمر الإیمان حتی یتم ‘‘ تو اﷲ تعالیٰ اس کے معاملے کو آہستہ آہستہ بڑھاتا ہے، حتی کہ وہ مکمل ہوجاتا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بڑھتے جا [1] صحیح مسلم: کتاب الإیمان، باب الحث علی المبادرۃ بالأعمال قبل تظاھر الفتن، رقم الحدیث (118) [2]  صحیح البخاري: کتاب الأنبیائ، باب أم حسبت أن أصحاب الکھف والرقیم، رقم الحدیث (3290) صحیح مسلم: کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ أحد، رقم الحدیث (1792)