کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 67
اور بندہ دنیا میں ہر مقام اور ہر موقع پر سچ بولتا ہے، سچائی اس کا شیوہ بن جاتی ہے، اﷲ تعالیٰ جب دیکھتا ہے کہ بندہ ہر مقام پر سچ بولتا ہے، تو فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کو صدیق لکھ دو، میری لسٹ میں یہ بندہ صدیق ہے اور انبیاء کے بعد صدیقین کا مقام ہے، پھر اﷲ تعالیٰ اس کو منہج کی صداقت دے دیتا ہے، اس کا عقیدہ سچا، نیت سچی، تعلق باﷲ سچا، منہج سچا، دین کے ساتھ تعلق سچا، یہ سچائی اگر چند لوگوں کے اندر پیدا ہوجائے، تو وہ پوری دنیا میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں۔ غلبے کی اساس: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’ لن یغلب اثنا عشر ألفا من قلۃ إذا صبروا وصدقوا۔‘‘[1] میری امت کے افراد اگر بارہ ہزار ہو، تو پوری دنیا مل کر ان کو مغلوب نہیں کر سکتی، شرطیں دو ہیں: ’’ إذا صبروا وصدقوا ‘‘ وہ صبر کرنے والے اور سچے ہوں، گفتار کے سچے ہوں، عقیدے کے سچے ہوں، اﷲ کے ساتھ ان کا بڑا راست اور سچا تعلق ہو، نبیٔ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سچا تعلق ہو، ان کے منہج میں صداقت ہو، اگر یہ صرف بارہ ہزار بھی ہونگے ، یہ کفار کے جتھے، ان کی طاقتیں اور ان کی ایٹمی قوتیں انہیں مغلوب نہیں کر سکیں گی، سچائی اور صبر کی قوت اتنی بڑی قوت ہے کہ کوئی قوت اس پر غالب نہیں آسکتی، یہی دنیا کے غلبے، حکمرانی اور قبر و آخرت میں کامیابی کا راز ہے اور افراد اگر جھوٹے ہوں، جتھوں کے جتھے لگ جائیں، جھوٹ ان کا منہج ہو، جھوٹ ان کا پروگرام ہو، تو یہ کثرت اور جتھے کسی کام کے نہیں ہیں۔ [1] سنن أبي داود: کتاب الجھاد، باب فیما یستحب من الجیوش والرفقاء والسرایا، رقم الحدیث (2611) سنن الدارمي (2/284) صحیح ابن خزیمہ (4/140) صحیح ابن حبان (11/17)