کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 65
جھوٹ کا خوفناک انجام: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آپ نے ایک طویل خواب دیکھا، وہ خواب صحابہ کو سنایا، اس کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ فرشتے آپ کو ایک ایسے شخص کے پاس لے گئے، جو چت لیٹا ہوا ہے اور اس پر ایک شخص سوار ہے: ’’ بیدہ کلوب من حدید ‘‘ اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک نوک دار کڑا ہے، وہ کڑا اس کے منہ میں ڈالتا ہے اور اس کے منہ کو گدی تک چیرتا جاتا ہے، پھر اس کی ناک میں ڈالتا ہے اور ناک کو بھی گدی تک چیرتا ہے، پھر اس کی آنکھ میں گھونپ دیتا ہے اوراس کو بھی گدی تک چیر دیتا ہے، پھر بائیں طرف آجاتا ہے اور بائیں طرف بھی یہی سلوک کرتا ہے، جب وہ اپنے اس پورے عمل سے فارغ ہوتا ہے، تو اس کا چہرہ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں آجاتا ہے، پھر وہ دوبارہ اس چیر پھاڑ کا عمل شروع کر دیتا ہے، یہ شخص چیخ اور چلا رہا ہے، اس کی چیخیں گونج رہی ہیں۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سبحان اللّٰہ ما ذنبہ ‘‘ اس کا کیا گناہ ہے؟ اسے یہ سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ جبرئیل امین فرماتے ہیں: ’’کان یکذب الکذبۃ ‘‘ یہ جھوٹ بولا کرتا تھا اور اس کی جھوٹ میں ایک خاص نیت ہوتی تھی: ’’ یغدو من بیتہ فیکذب الکذبۃ، تبلغ الأفاق ‘‘ [1] اس کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اس کا یہ جھوٹ دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائے، اس کا یہ جھوٹ پھیل جائے، یہ جھوٹ وہی ہوتا ہے جو بندہ کسی کو اپنے کارنامے دکھانا چاہے، چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو، اپنی شہرت چاہے، مال چاہے، جھوٹ بول بول کر اپنے آپ کو اونچا کروں، اپنی تنظیم کو اونچا کروں، تاکہ لوگوں سے مال بٹوروں، اس وعید کے زیادہ یہی شکار ہیں۔ [1] صحیح البخاري: کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح، رقم الحدیث (6640) صحیح مسلم: کتاب الرؤیا، باب رؤیا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، رقم الحدیث (2275)