کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 60
اس کا ترجمہ کر سکو اور بعض کفار کو عبرانی میں دعوت دے سکو۔یہ کیا بات ہوئی کہ پوری قوم ایک طرف لگی ہوئی ہے! رزق کے خزانے اﷲ کے ہاتھ میں ہیں: میرے بھائیوں اور دوستو! اﷲ پاک نے فرمایا: { وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ: 195] ’’اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ ڈالو۔‘‘ اﷲ پاک کا فرمان ہے کہ اپنی اولاد کو فاقے کے ڈر سے قتل نہ کرو،[1] یہ انگریزی کیوں پڑھاتے ہیں ؟ تاکہ یہ کل کچھ کمانے کے لائق ہو سکیں،ورنہ یہ بھوکے مر جائیں گے ۔ یہ بھی اس آیت کی تفسیر ہے کہ فاقے کے ڈر سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو کہ آج انگریزی پڑھ لیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کر لیں، تو کل یہ کچھ کمانے کے قابل ہو جائیں گے۔ کیا تم رب العالمین ہو گئے ہو؟ رب العالمین تو اوپر ہے، رزق کے خزانے تو اﷲ کے ہاتھ میں ہیں، یہ فیصلے تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ تم اپنی اولاد کی بہتری کا سوچو اور ان کی بہتری دینی مدارس میں ہے، یونیورسٹی، کالجوں اور سکولوں میں نہیں! انگریزی تعلیم کی طرف پوری قوم لگی ہوئی ہے، یہ کونسا منہج ہے؟ منہج تو یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دعوت و حکمت کی خاطر اپنے ایک صحابی کا انتخاب کیا تھا، یہ نہیں کہ پوری قوم کو لگا دیا اور پوری قوم کے بچوں کو لگا دیا کہ سب کے سب پڑھو، یہ ترقی کی زبان ہے، آج روم کا طوطی بولتا ہے، روم نے فارس کو بھی شکست دے دی، وقت کی سپر پاور ہے، سبھی اس زبان کو حاصل کرو، نہیں! یہ استغناء ہے کہ ایک صحابی کو مامور کیا اور دعوت کے تقاضے اس سے پورے ہوگئے ۔ [1] الإسرائ: 15