کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 293
کی وجہ سے ہرقل نے یہ کہا؟ علم نجوم کے بارے میں علماء کا خیال تو یہ ہے کہ نجومیوں کی باتیں فضول ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں، شاہ ولی اﷲ کا خیال ہے کہ اس کی کچھ حقیقت ہے، مگر شریعت اسلامیہ نے اس سے روک دیا ہے، اس لئے کچھ فائدہ نہیں ، سوائے تضییع اوقات کے کچھ حاصل نہیں، ابن تیمیہ اور ابن قیم دونوں کا خیال ہے کہ بے معنی، بے حقیقت اور فضول باتیں ہیں، ابن قیم نے علم نجوم کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے، جس میں بطلیموس سے لے کر اپنے زمانے تک کے نجومیوں کی پیشین گوئیوں پر بحث کی ہے، ان میں سے اکثر جھوٹی ثابت ہوئی ہیں، اتفاقاً کچھ سچی بھی ہوگئی ہیں۔ ایک کاہن کا واقعہ یوں ہے کہ ایک کاہن آیا، اس وقت نجومیوں کو بلایا گیا، نجومی آگئے، ان سے کہا گیا کہ ہم نے قاہرہ کی بنیاد رکھنی ہے، تم دیکھو کہ کوئی ستارہ ایسا ہے کہ بنیاد رکھنا مناسب ہو، انہوں نے کہا ہاں ایسا ستارہ ہے بنیاد رکھ دیں ، کافی مدت تک اس میں کسی قسم کا تغیر نہ آیا، لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ نجومیوں نے ٹھیک کہا تھا، اس کے بعد اس عمارت میں تغیر بھی آگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں، بعض لوگ بیت اﷲ کے متعلق بھی اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ اس وقت کوئی ستارا اوج پر ہوگا، قران ہوگا، اس وقت اس کی بنیاد رکھی گئی ہوگی۔ ستاروں کی تاثیر: ستاروں کا سعادت اور نحوست کے ساتھ تو کوئی تعلق نہیں، بس اس طرح کا تعلق ضرور ہے، جس طرح سورج کا تعلق لیل و نہار کے ساتھ ہے، یا شتاو صیف (گرمی و سردی) کے ساتھ ہے، یعنی موسم گرما آجاتا ہے، اور موسم سرما آجاتا ہے، یا جیسے چاند کا تعلق سمندر کے مدو جزر اور جوار بھاٹے سے ہے، اسی بناء پر طبیب حضرات