کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 283
تقاضا کرتے ہیں، ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ پوپ صاحب نے ایک دو کی اجازت دے دی، یہ لوگ ایسے ایسے کام کرواتے ہیں کہ گناہ گار کو معافی دے دی اور اجنبی سے بوس و کنار کی اجازت مرحمت فرما دی! عیسائیوں میں شرک: { اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } [آل عمران:64] اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ان کو رب بنا لیا تھا، اﷲ تعالیٰ کی ذات کے ما سوا کوئی کار ساز اور رب نہیں اور نبی کی ذات کے سوا کوئی معصوم در اجتہاد نہیں، بعد میں لوگوں نے جو باتیں کہی ہیں، ہو سکتا ہے غلط ہوں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ صحیح ہوں، اس لئے ان لوگوں کا یہ کہنا کہ قطعاً صحیح ہیں غلط ہے۔ ؎ سجادہ رنگین کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر بود ز راہ و رسم منزلہا پیر اگر تمہیں کہے کہ سجادہ رنگ لو کوئی حرج نہیں، کیونکہ سالک منزل کے راستوں سے بے خبر ہوتا ہے۔ اس طرح کے خیالات مسلمانوں میں بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ تقلید شخصی اور صاحب تفسیر مظہری کی صراحت: { اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ }[آل عمران:64] رب نہ بنا لو، رب بنانے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں حلال و حرام کا اختیار ہے، قاضی ثناء پانی پتی نے اس مقام پر لکھا ہے کہ اگر کسی امام کا قول حدیث کے خلاف آجائے تو اسے چھوڑ دینا چاہیے، ورنہ اس آیت کے تحت آجائیں گے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قاضی صاحب اصول میں تو مقلد تھے، فروع میں نہیں، خاص کر آج کل کے حنفیوں کی طرح نہیں تھے، محقق حنفی تھے، حدیث سے اچھی خاصی واقفیت رکھتے تھے، اچھے صوفی انسان تھے، شاہ ولی اﷲ نے