کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 269
’’ لأنہ مال مباح، ویجوز عقدہ بأي طریق کان ‘‘ [1] حربی کا مال مباح ہے، جس طریقے سے لو جائز ہے،۔ سود تو اس کا نام رکھا گیا ہے، ویسے تو حربی کا مال سمجھ کر لیا گیا ہے، اس واسطے سود نام رکھ لینا جائز ہے۔ ایسے آدمی کو تو نہیں پڑھانا چاہیے۔ { فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا }سے اس آیت کے قرآنی آیت ہونے کا استدلال اس لئے کیا گیا ہے کہ خط میں ’’ فإن تولوا ‘‘ کے الفاظ ہیں، اگر یہ جملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا ہوتا، تو آپ ’’ فإن تولوا ‘‘ کے بجائے ’’ فإن تولیتم ‘‘ فرماتے کہ اگر تم روگرداں ہو جاؤ اور آگے آپ ’’ نقول بأنا مسلمون ‘‘ کہتے یا فرماتے ’’ یقول اشھدوا ‘‘ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے: { فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا }اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآنی آیت ہے۔ اہل کتاب کو خطاب: { یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ } [آل عمران: 64] ’’اے اہل کتاب! آؤ ایسے کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مساوی ہے۔‘‘ { تَعَالَوْا } علوّ سے ہے، جس کا معنی اوپر آنا کے ہے، پھر مطلق آنا کے معنی ہوگئے ہیں۔ عیسائی بھی عقیدتاً توحید کے قائل ہیں: ’’ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عقیدتاً تم بھی [1] البحر الرائق (۶/۱۴۷) فتح القدیر (۵/۳۵۸)