کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 267
کفار کو آیتِ قرآن لکھ کر بھیجنا: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی آیت ہی ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آگے کتاب التفسیر میں اس آیت کو لا کر استدلال کیا ہے کہ کفار کی طرف قرآن کی آیت لکھنا جائز ہے، پھر بوقت ضرورت قرآن کی آیت کو مس کرنا(چھو نا) بھی جائز ہوگیا، بعض کہتے ہیں کہ تبلیغ کے لیے قرآن پڑھانا بھی جائز ہے، تاکہ اس سے متاثر ہوجائیں، بعض کہتے ہیں کہ قرآن کو صرف مسلمان ہی مس کر سکتے ہیں، اس لئے کفار اس کو مس نہیں کر سکتے: ’’ لا یمس القرآن إلا طاھر ‘‘[1]اس لیے کافر کو قرآن نہیں دینا چاہیے اور پڑھانا بھی نہیں چاہیے، بعض کہتے ہیں کہ اگر اندازہ ہو کہ مسلمان ہو جائے، پھر تو اسے پڑھا دیا جائے اور اگر اندازہ اس کے برعکس ہو تو پھر نہیں پڑھانا چاہیے۔ بعض اوقات کفار محض مناظرہ کے لیے پڑھتے ہیں اور مسلمان سے مدد لے لیتے ہیں، پھر قرآن و شریعت میں کیڑے نکالنے شروع کر دیتے ہیں، ان کا مقصود تلاش حق نہیں ہوتا، یہ الگ بات ہے کہ ایک عالم دین اتنی وسعت علم اور وافر مطالعہ و معلومات رکھتا ہو اور مخالف کو قائل کر لے، تو ایسا آدمی کافر کو پڑھا سکتا ہے، جیسا کہ کہتے ہیں ایک عیسائی قسطنطنیہ میں ایک عالم کے پاس گیا، انہوں نے اسے پڑھانا شروع کر دیا اور وسعت علم اور عمیق مطالعہ کی بنا پر اس عیسائی کو قائل کر لیا، اس طرح کی صورت ہو تو کوئی حرج نہیں، یہ تو تبلیغ کی ایک صورت ہوگئی۔ دہلی کا ایک واقعہ: دہلی میں ایک مدرسہ امینیہ ہے، اس کے سامنے ایک فوارہ ہے، وہاں اتنی وسیع جگہ تھی کہ جلسے وغیرہ منعقد ہوا کرتے تھے، وہاں ہر مذہب کا آدمی اپنے مذہب کی [1] الموطأ (۱/ ۱۹۹) سنن الدارمي (۲/ ۲۱۴) تفصیل کے لیے دیکھیں: إرواء الغلیل (۱/ ۱۵۸)