کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 260
ہے، یہاں یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ سب بعد کے علماء کی نکتہ آفرینیاں اور نکتہ سنجیاں ہیں، بلکہ حضور گرامی قدر نے ان سب باتوں کا لحاظ رکھا ہے، ورنہ آپ نے ’’عظیم الروم‘‘ کی جگہ ’’ملک الروم‘‘ کیوں نہ کہا؟ اسے آپ نے چھوڑ دیا ہے، ظاہر ہے چھوڑنے کی آخر کوئی معقول وجہ ہی ہوگی اور وہ وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔کسریٰ بھی اسی واسطے ناراض ہوگیا تھا کہ اس نے محمد عبداﷲ و رسول اﷲاپنا نام لکھا ہے، طیش اور غصہ میں آکر آنجناب کا مراسلہ پاش پاش کر دیا۔ غیر مسلم کو سلام: ’’ سلام علی من اتبع الھدیٰ ‘‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر غیر مسلم کو سلام کہنا ہو تو ان الفاظ سے کہنا چاہیے، السلام علیکم ، یا سلام علیک نہیں کہنا چاہیے، آپ نے ایسا کرنے سے منع فرما دیا ہے: ’’ لا تبدؤا الیھود والنصاریٰ بالسلام ‘‘[1]یہود اور نصاریٰ کو پہلے سلام نہ کرو۔ غیر مسلم کو بھی اخلاقاً سلام کہا جا سکتا ہے: حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ’’السلام‘‘ کا لفظ نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں پہلے بھی سلام کہنا جائز ہے، جب کسی غیر مسلم سے کوئی کام ہو، کوئی ضرورت ہو تو ابتدائً بھی کہہ سکتا ہے، آگے باب باندھا ہے کہ یہود اور مسلمان ملے جلے ہوں، تو پہلے سلام کہہ سکتا ہے، لیکن ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ پہل بھی کر سکتا ہے کوئی مما نعت نہیں، حضرت ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باپ کو پہلے کہا تھا: {سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ} جب حضرت ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم رخصت ہونے لگے، اس وقت انہوں نے یہ جملہ فرمایا تھا ، بعض کہتے ہیں کہ یہ سلام متارکہ ہے، سلام جدائی اور سلام مفارقت ہے، حالانکہ ایسا نہیں، [1] سنن الترمذي: کتاب السیر، باب ما جاء في التسلیم علی أھل الکتاب، رقم الحدیث (۱۶۰۲) وقال الترمذي: ’’ ھذا حدیث حسن صحیح ‘‘