کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 206
کے اخلاق و عادات بھی لے کر آتا ہے، اسی طرح ایک شریر انسان کی اولاد ناممکن سی بات ہے کہ وہ انتہائی شریف ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ تعلیم و تربیت کی وجہ سے اپنے آپ پر کنٹرول کر لے، اس کے باوجود جبلت اور فطرت نہیں بدل سکتی، اسی طرح رہے گی، آہستہ آہستہ کچھ فرق پڑے گا۔ اَلوَلِدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ : کہتے ہیں مرزا قادیانی کے سب لڑکے شرابی اور زانی تھے، اسی لئے کہتے ہیں کہ اگر مرزے میں کوئی صلاحیت ہوتی، تو اس کی نرینہ اولاد میں ظاہر ہوتی، جب لڑکے اس قماش کے نکلے، تو معلوم ہوتا ہے کہ خود مرزا جی بھی اسی محفلِ رنداں کے ہی ایک فرد ہوں گے، کہتے ہیں: ’’گندم از گندم بروید جو از جو از مکافات عمل غافل مشو‘‘[1] شرافت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں کنٹرول کا ملکہ ہو، یا تعلیم کے حصول کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہو کہ یہ چیزیں قبیح ہیں، اس لئے ان سے پرہیز کرنے لگے، یا شریعت کا زیادہ ہی معتقد ہوگیا، اس کا اس کے اخلاق پر زیادہ دباؤ پڑ گیا ہو، معلوم ہوا کہ فطری مہذب الاخلاق ہونا اور چیز ہے، ایسا شخص عقلی طور پر زیادہ کنٹرول کر سکتا ہے، جو شخص ڈر کے مارے یا ڈنڈے کے خوف سے یا اﷲ تعالیٰ کی سزا اور اس کی گرفت سے ڈرتے ہوئے اپنے اوپر کنٹرول کر لے، تو اسے فی نفسہ مہذب الاخلاق نہیں کہا جا سکتا، مشہور ہے ’’ الولد سر لأبیہ ‘‘ بچہ باپ کا راز دان ہوتا ہے، اگر باپ کنٹرول کر لے تو عموماً اولاد بھی کنٹرول کر لیتی ہے، ورنہ اولاد باپ کے مخفی اور پس پردہ کردار کو طشت ازبام کر دے گی۔ [1] گندم سے گندم اور جو سے جو ہی برآمد ہوتا ہے، تم مکافاتِ عمل سے غافل نہ رہو!