کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 180
اے میرے ساتھیو! کیا تم چاہتے ہو کہ دنیا اور آخرت کی فلاح اور کامیابی تمہیں نصیب ہوجائے اور تمہارا یہ ملک تمھارے لیے ثابت اور محفوظ رہے؟ تو آؤ اس نبی کی اتباع کرلیں، کیونکہ یہ اﷲ کا سچا نبی ہے۔ اہل روم کا رد عمل: ہرقل کی یہ بات سننی تھی کہ اس کی پوری کابینہ جوش میں آگئی اور انہوں نے نفرت کا اظہار کیا : ’’ حاصوا حیصۃ الحمر الوحش ‘‘ اس طرح چنگھاڑنے لگے، جیسے جنگلی گدھا چھنگاڑتا ہے۔ جو گھریلو گدھے ہوتے ہیں، ان کی چھنگاڑ کم ہوتی ہے، آواز ان کی بھی کریہہ ہوتی ہے، مگر کم ہوتی ہے، لیکن جنگلی گدھوں کی چنگھاڑ انتہائی مکروہ اور خوفناک ہوتی ہے اور گدھا اس لئے کہا کہ انہوں نے گدھے پن کا ثبوت دیا تھا، بات مان لیتے، دعوت قبول کر لیتے تو بہتر تھا، لیکن دعوت کا انکار کر کے وہ گدھے سے بھی بدتر ہوگئے اور دروازوں کی طرف بھاگنے لگے، لیکن دروازے بند تھے۔ ہرقل پھسل گیا: یہاں ہرقل بھی آکر پھسل گیا، اب تک جو ہم نے سنا، وہ اس کی فراست اور اس کے فہم کی دلیل ہے، مگر یہاں آکر بہک گیا، اس نے حکم دیا کہ سب واپس لوٹ جاؤ اور کہا کہ میں تو تمہیں اسلام اور اس نبی کی غلامی کی دعوت اس لیے دے رہا تھا: ’’لأختبر شدتکم ‘‘ میں تو یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم اپنے دین پر قائم ہو یا نہیں؟ میں تو تمہارا امتحان لے رہا تھا، تم سب کے سب قائم ہو، ثابت قدم ہو، تمہیں مبارک ہو۔ لوجی ساری کابینہ راضی ہوگئی، ہرقل کے سامنے سجدے میں گر گئے، اس طرح اس کو اسلام نصیب نہیں ہوا، یہاں تک ہرقل کی بات تھی، صحیح بخاری کی حدیث مکمل ہوئی۔