کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 164
اور عدی سن رہے ہیں: { اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } یہود و نصاریٰ نے اﷲ کو چھوڑ کر اپنے علمائ، راہبوں، مولویوں، پیروں اور مرشدوں کو اپنا رب بنا لیا۔ عدی سن رہے تھے، یہاں خاموش نہ رہے، کہا اے اﷲ کے رسول! میرا ایک سوال ہے، یہاں ایک اشکال ہے اور وہ یہ ہے کہ ’’ ما عبدناھم‘‘ ہم نے تو اپنے مولویوں اور علماء کی کبھی عبادت نہیں کی، پھر قرآن یہ بات کیسے کہہ رہا ہے کہ ہم نے انہیں رب بنا لیا؟ عبادت کا اصل معنی: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ألستم تستحلون ما أحلوا لکم وتحرمون ما حرموا علیکم ‘‘ اے عدی ! یہ بتاؤ کہ تمہارے علماء نے جس کو چیز حلال کہہ دیا، تم نے اس کو حلال نہیں مانا اور جس چیز کو حرام کہہ دیا، اسے حرام نہیں سمجھا؟ تم ان کے فتوے پر عمل پیرا تھے، ان کی باتیں سنتے، پڑھتے اور بیان کرتے، بغیر کسی سند اور دلیل کے ان کو قبول کرتے، ایسا تھا یا نہیں تھا؟ عدی نے عرض کیا ایسا تو ہوتا تھا، ہم ان کے پورے پورے پیروکار بن گئے، ان کے حلال کو حلال مانا اور اﷲ کی وحی کو نہیں دیکھا، ان کے حرام کو حرام مانا، اﷲ کی وحی کو نہیں دیکھا، فرمایا کہ ’’فتلک عبادتھم ‘‘[1]یہی ان کی عبادت ہے، تم نے ان کے حلال کو حلال مان کر اور ان کے حرام کو حرام مان کر انہیں اپنا رب اور اپنا معبود مان لیا، یہ ان کی پوجا اور ان کی عبادت ہے، جو شرک ہے۔ [1] سنن الترمذي: کتاب تفسیر القرآن، باب تفسیر التوبۃ، رقم الحدیث (3095) سنن البیھقي (10/116) نیز دیکھیں:السلسلۃ الصحیحۃ (9/73) برقم (3293)