کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 144
اﷲ اکبر! مجھے شام کی چابیاں دے دی گئی ہیں۔میں نے اس جگہ کھڑے کھڑے ملک شام کے سرخ محلات کو دیکھ لیا، یعنی شام فتح ہوگیا۔ 2۔ دوسری ضرب پر فرمایا: ’’ اللّٰہ أکبر أعطیت مفاتیح فارس، إني أبصرت قصرھم الأبیض ‘‘ مجھے سلطنت ایران کی چابیاں دے دی گئیں، میں نے یہاں کھڑے کھڑے سلطنت فارس کا وائٹ ہاؤس دیکھا ہے ۔ 3۔ تیسری ضرب پر فرمایا: أعطیت مفاتیح الیمن، إني أبصرت أبواب صنعاء ‘‘ مجھے یمن کی چابیاں دے دی گئی، میں نے یمن کے دارالخلافہ صنعاء کا دروازہ دیکھا ، یمن بھی فتح ہوگیا، فارس بھی اور سلطنت روم اور شام سب فتح ہوگئے۔ نصرتِ خداوندی پر بھروسہ: جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کدال اوپر کر کے وار کیا: ’’رأیت بطنہ معصوبا بحجر ‘‘ تو اﷲ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے کپڑا اٹھ گیا اور ہم نے اس پر پتھر بندھا ہوا دیکھا۔فرماتے ہیں کہ تین دن سے کسی کو کھانا نہیں ملا تھا، کھانا تو دور کی بات ہے، کوئی چیز چکھی تک نہیں تھی، تین دن کی بھوک اور پیٹ پر پتھر بندھا ہوا، مدینے کو بچانے کے لیے خندق کھودی جا رہی ہے اور سلطنت شام ، سلطنت فارس اور ملک یمن کی فتح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اہل خندق کی دعوت: جابر رضی اللہ عنہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن رہے تھے، تو بڑے پریشان ہوئے، اﷲ کے نبی سے عرض کیا: ائذن لي إلی البیت‘‘ یا رسول اﷲ ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں، گھر چلے گئے، اپنی بیوی سے کہا: ’’ھل عندک شيء ؟‘‘ کچھ کھانے کے لیے ہے؟ ’’ رأیت في النبي ما صبرنا علیہ‘‘ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ