کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 141
تیرے پروردگار کی فوجیں کیا کیا ہیں؟ وہ اﷲ ہی جانتا ہے۔ 4۔ ابرہہ کی طاقت کو مسمار کرنے والا کون ہے؟ ان ہاتھیوں کا کوئی توڑ تھا؟ وہ ہاتھی لے کر اﷲ کے گھر کو تہس نہس کرنے پہنچ گیا، ابرہہ کی طاقت مشہور تھی اور جو کچھ ہوا، پوری دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، اﷲ نے کمزور سے پرندوں کا انتظام کیا، ہر پرندے کی چونچ میںچھوٹا سا کنکر تھا، اوپر سے وہ کنکر برساتے اور وہ ہاتھی کو لگتا اور ہاتھی بلبلا کر تڑپ کر بری طرح ہلاک ہوجاتا، یہ چھوٹے چھوٹے پرندے اﷲ کی فوج ہیں، یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں اﷲ کی فوج ہیں، اﷲ تعالیٰ ان کنکریوں میں ایٹمی تاثیر پیدا کرنے پر قادر ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت ہماری طاقت جیسی نہیں: { لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ } [الشوریٰ: 11] ’’ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔‘‘ 5۔ غارثو ر میں کائنات کی اعلیٰ ترین شخصیت یعنی محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کے بعد پوری کائنات میں سب سے افضل انسان ابوبکر صدیق موجود ہیں، ابو جہل اپنے کھوجیوں کے ساتھ تعاقب کرتے کرتے اس غار کے دھانے پر پہنچ گیا، ابوبکر صدیق فرماتے ہیں کہ جہاں ان کے پاؤں تھے، اگر وہ وہاں سے جھانک کر دیکھ لیتے، تو ہمیں پا لیتے۔[1] دو دھاری تلواریں ان کے ساتھ تھیں، جن کو انہوں نے ایک عرصہ زہر آلود کیا اور ان کو خوب زہر سے سیراب کیا ہوا تھا، ان کے ساتھ وہ وہاں پہنچ چکے تھے، اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی حفاظت کے لیے کس فوجی کا انتظام کیا؟ ایک مکڑی کا! { اِنَّ اَوْھَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ} [العنکبوت: 41] دنیا میں سب [1] صحیح البخاري: کتاب فضائل الصحابۃ، باب مناقب المھاجرین وفضائلھم، رقم الحدیث (3453) صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل أبي بکر الصدیق رضي اﷲ عنہ، رقم الحدیث (2381)