کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 125
اللّٰہ ‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ صرف ایک اﷲ کی عبادت کرو، کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اﷲ کے نبی ہیں، تو ان کی اس طرح اطاعت کرو کہ یہ برادریوں کے بندھن، آباء و اجداد کی پیروی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مقابلے میں یہ تمام چیزیں باطل ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات: یہ اس کی دعوت اور اس کا امر ہے اور ساتھ ساتھ کچھ باتیں اور بھی ہیں: ’’ویأمرنا بالصلوۃ، والصدق، والصلۃ، والعفاف ‘‘ وہ ہمیں نماز ، سچ، صلہ اور عفاف کا حکم دیتا ہے، عفاف کا معنی پرہیز گاری ہے، یعنی ان چیزوں کو چھوڑ دینا، جن کو اﷲ نے حرام کیا ہے، یہ چوری ہے، زنا ہے، ڈاکہ ہے، غیبت ہے، جھوٹ ہے، تمام محرمات سے بچنا یہ عفاف میں داخل ہے، یہ اس کی بنیادی تعلیم ہے، ایک روایت میں صدقے کا بھی ذکر ہے۔ تعلیم نبوی کے اثرات: ابو سفیان نے اس تعلیم کو ذکر کر کے ہرقل کے دل میں نفرت پیدا کرنا چاہی کہ اگر اس کی اطاعت کرو گے، تو پھر یہ ہمارے معبود کہاں جائیں گے؟ تم بھی عیسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پجاری ہو، اس کی دعوت عیسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کی نفی کرتی ہے اور اس کی دعوت یہ کہتی ہے کہ آبا و اجداد کی پیروی چھوڑ دو، باپ دادا کی پیروی چھوڑ دو، باپ دادا کے ہم بھی پیرو کار ہیں اور تم بھی پیرو کار ہو، اور اس کی دعوت یہ کہتی ہے کہ عفت اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرو، پھر یہ ہماری محفلیں کہاں جائیں گی؟ یہ شراب نوشی اور پھر مختلف قینات [گلو کاراؤں] کے ناچ اور گانے یہ سب کچھ چھوڑنا پڑے گا، یعنی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو اس انداز سے ذکر کر رہا ہے، تاکہ ہرقل کے دل میں نفرت پیدا ہوجائے۔