کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 123
کلمہ کا معنی: افسوس یہ ہے کہ ایک مسلمان جو یہ کلمہ پڑھتا ہے، اس کلمے کا اقرار اور اعتراف کرتا ہے، وہ اس معنی کو نہیں سمجھ سکا، حالانکہ یہ کلمہ ان تین چیزوں پر مشتمل ہے، اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، صرف ایک اﷲ معبود برحق ہے، باقی سارے معبود باطل ہیں اور محمد اﷲ کے رسول ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ انہی کی اطاعت فرض ہے، اپنی برادری کی باتیں ، اپنی قوموں کی باتیں، آباء و اجداد کی باتیں، بزرگوں کی باتیں یہ سب چھوڑ دو، یہ ہے دین کا فہم جو ابو سفیان کو حاصل ہوا، وہ اس کلمے کا معنی یہ سمجھا کہ صرف ایک اﷲ کی عبادت کرنی ہے اور اس عبادت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا، سجدہ ہو، رکوع ہو، قیام ہو، قراء ت ہو، نماز ہو، روزہ ہو، حج ہو، عمرہ ہو، جو چیز عبادت ہے، وہ اﷲ کے لیے خاص ہے اور اس عبادت میں اﷲ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں۔ صرف ایک معبود؟ قومِ کفار کو یہی پریشانی تھی کہ { اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِِلٰھًا وَّاحِدًا } [ص: 5] محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنے سارے معبودوں کو ایک ہی بنا دیا، یہ ہمارے مختلف معبود جو ہمارے مختلف کام آتے ہیں، یہ کیسی دعوت ہے کہ اتنے سارے کام جو اتنے معبود مل کر کرتے ہیں، اس نے سب کو ایک کر دیا کہ معبود ایک ہی ہے، یعنی اس کلمے کا فہم ان کو حاصل تھا، وہ قبول نہ کر سکے، آج کلمہ قبول کرنے والے بہت ہیں، لیکن فہم اور سمجھ نہیں ہے، اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان پتھر پر لکیر ہے: { وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَ ھُمْ مُّشْرِکُوْنَ﴿١٠٦﴾ } [یوسف: 106] کہ جو لوگ ایمان لائیں گے، کلمہ پڑھیں گے، آپ اگر ان کے عقیدوں کو ٹٹولیں اور چیک کریں گے، تو ان میں سے اکثر مشرک ہوں گے۔