کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 116
کے سامنے بیٹھ جاؤ اور اپنی تکلیفوں کی فہرست کھول دو، مجھے فلاں مرض ہے، فلاں تکلیف ہے، فلاں درد ہے،آرام ہی نہیں آتا، شفا ہی نہیں ملتی، سوچو یہ شکوہ کس کا کر رہے ہو؟ صبر کرو، اس پر خاموشی اختیار کرو اور صبر علی أقدار اﷲ کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ تکلیفوں کے پہنچنے پر کسی خلاف شریعت امر کا ارتکاب نہ کرو۔ سفلی علوم کفر ہیں: کوئی مستقل بیماری آجائے، لوگ کہتے ہیں کہ چلو فلاں جادوگر کے پاس چلتے ہیں اور سفلی علم والے کے پاس چلتے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ کسی نے جادو کر دیا ہو، وہ جادو کی جادو سے کاٹ کر دے گا ، یہ سارا معاملہ کفر ہے، چلو فلاں درگاہ پر چلو، وہاں جا کر دم کراؤ، وہاں جا کر تعویذ کرواؤ، پلیٹیں ساتھ لے جاؤ، پلیٹوں پر تعویذ لکھوا کر لاؤ ، گھول گھول کر پیو اور پانی کی بوتلیں لے جاؤ اور پانی کی بوتلوں پر پھونکیں مروا کر لاؤ اور دم کروا کے لاؤ، یہ سارے امور غیر شرعی ہیں، ہاں کسی سے دم کروانا اور دم کروانے کے لیے جانا بھی اس کو شریعت نے بنظر استحسان نہیں دیکھا، تم خود کیوں نہیں دم کر سکتے؟ سورہ فاتحہ بہترین دم ہے: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کو دم قرار دیا ہے، [1]اور یہ ایک بہترین دم ہے، اور یہ کس کو نہیں آتی؟ سورۃ فاتحہ سب کو آتی ہے، جو اخلاص [1] صحیح البخاري، برقم (2156) صحیح مسلم، برقم (2201)