کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 115
عمر سے جا کر کہہ دو کہ اس کے لیے اور اس کے ساتھیوں کے لیے ایک ہی ہجرت ہے اور اے کشتی میں سفر کرنے والو! تمہارے لئے دو ہجرتیں ہیں۔ اسمائ رضی اللہ عنہا اس حدیث کو سن کر بڑا خوش ہوئیں، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی اسی سفینے میں پہنچے تھے، اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ میرے پاس ایک دن میں کئی بار آتے اور کہتے کہ مجھے یہ حدیث سناؤ، بس یہ حدیث سننے کے لیے بار بار آیا کرتے تھے، اﷲ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اہل سفینہ کے لیے دو ہجرتیں ہے، یہ تکلیفیں، یہ ترک وطن یہ ہجرتیں وہی ’’ أشد البلاء الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل‘‘[1]والا معاملہ ہے۔ آزمائشوں پر صبر: میرے دوستوں اور بھائیو! یہ سب اﷲ تعالیٰ کی تقدیر کے وہ فیصلے ہیں، جو بندوں کے لیے تکلیف دہ ہوتے ہیں، ان پر صبر کرنا سیکھو، انبیاء وہ شخصیتیں ہیں، جن کو جھنجھوڑا جاتا ہے اور آزمایا جاتا ہے، اس کے بعد وہ لوگ آزمائے جاتے ہیں، جو نبیوں والا کام کرتے ہیں، جو اﷲ کے دین کے داعی ہیں، جو انبیاء کے وارث ہیں، جو بھی اس مشن کے قریب ہوگا، اس پر آزمائشیں آئیں گی، ہرقل کا یہ تبصرہ ہمیشہ ہمارے سامنے ہونا چاہیے، وہ کافر تھا، لیکن اس کی تشخیص صحیح تھی اور تبصرہ درست کر گیا، یہ اﷲ کی مقرر کردہ اشیاء پر صبر ہے، اس کو سیکھو اور اس منہج پر قائم ہو جاؤ ۔ صبر علی أقدار اللّٰہ : صبر علی أقدار اللّٰہ کیسے ہوتا ہے؟ وہ اس طرح ہوتا ہے کہ تکلیفوں کو جھیلو اور تکلیفوں پر اﷲ کا شکوہ نہ کرو، تکلیف دینے والا اﷲ ہے، یہ نہ ہو کہ ہرکس و ناکس [1] سنن الترمذي: أبواب الزھد، باب ما جاء في الصبر علی البلائ، رقم الحدیث (2398) وقال الترمذي: ’’ھذا حدیث حسن صحیح ‘‘