کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 114
وحی کو مستقل سنتے بھی تھے اور ہم تو حبشہ گئے، بہت ہی دور دراز علاقے میں، دشمنوں میں گرے ہوئے تھے، نہ وہاں پر ہمارا کوئی پرسان حال تھا اور نہ ہم وحی کو سن سکتے تھے، تمہیں تو یہ شرف حاصل تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو، ہدایت لے رہے ہو، تعلیم لے رہے ہو، وحی اتر رہی ہے اور وحی کو سنتے ہو اور کبھی بھوک لگتی ، پیاس لگتی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تمہیں کھانا بھی مل جاتا تھا، پانی بھی مل جاتا تھا۔ ’’ وکنا في أرض بعداء بغضاء ‘‘ ہم تو دشمنوں کی سر زمین میں تھے، جہاں بڑے بڑے اوباش اور بدمعاش تھے، ہمیں فاقے برداشت کرنے پڑے ، بھوک سہنی پڑی اور پھر اﷲ کی وحی سے دور، دین اور دین کے احکام سے دور تھے، ہم تو ترستے تھے کہ ہم تک دین کے احکام پہنچیں اور یہ ساری تکلیفیں ہم نے اﷲ کی رضا کے لیے برداشت کیں، پھر اسماء نے کہا کہ تم نے جو بات کہی ہے، میں اﷲ کے نبی سے جا کر پوچھتی ہوں: ’’ واللّٰہ لا أطعم طعاما ولا أشرب شرابا ‘‘ جب تک اﷲ کے پیغمبر تک پہنچ نہیں جاتی، اس وقت تک کھانے کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاؤں گی اور پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیوں گی، پہلے اس مسئلے کو حل کراؤں گی کہ ہجرت میں سبقت کون لے گیا؟ اہل حبشہ کے لیے دو ہجرتیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا کہ یا رسول اﷲ! عمر بن خطاب نے یہ کہا ہے، فرمایا کہ عمر نے صحیح نہیں کہا: ’’ إن لہ ولأصحابہ ھجرۃ، ولکم أھل السفینۃ ھجرتان ‘‘ [1] [1] صحیح البخاري: کتاب المغازي، باب غزوۃ خیبر، رقم الحدیث (3990) صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل جعفر بن أبي طالب وأسماء بنت عمیس وأھل سفینتھم رضي اﷲ عنھم، رقم الحدیث (2502)