کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 110
ان کو قتل کر دیں، کسی نے کہا ان کا فدیہ لے لیں اور کسی نے کہا کہ ان سے ہم ہنر سیکھیں، کتابت سیکھیں، اپنے بچوں کو سکھلائیں، تاکہ انہیں کچھ علم اور لکھنے پڑھنے کے ڈھنگ آجائیں، اس وقت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطعم بن عدی یاد آئے، اس کا وہ احسان یاد آگیا، فرمایا: ’’ لو کان المطعم بن عدي حیا ثم کلمني في ھؤلاء النتنی لترکتھم لہ ‘‘[1] آج اگر مطعم زندہ ہوتا اور وہ ان ستر مرداروں کی سفارش کرتا، تو اس کی سفارش پر میں سب کو رہا کر دیتا، تاکہ اس کے اس احسان کا بدلہ آج چکانے میں کامیاب ہوتا ، لیکن وہ آج زندہ نہیں۔ کفار مردار ہیں: آپ نے ان کو مردار کہا، حالانکہ وہ زندہ تھے، جس میں یہ اشارہ اور نقطہ ہے کہ کفار اپنے کفر اور شرک کی بناء پر خواہ کتنے ہی طاقت سے لیس اور مسلح ہوں، اگر ہمارا ایمان مستحکم ہوگا، تو ہمارے مقابلے میں کافر زندہ ہونے اور بڑی طاقتوں کے مالک ہونے کے باوجود مردار ہیں، ایک مردے سے کیا خوف ؟ ایک قبرستان میں کڑوروں قبریں ہیں، کروڑوں مردے ہیں، ان سے کیا ڈر ہے؟ آپ قبرستان میں چلے جائیں، ان کا کیا خوف ہے؟ اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے ایمان کو پکا کر لو اور کفار سے بے خوف ہو جاؤ، تمہارے ایمان کے استحکام کے مقابلے میں کفار مردار ہیں، ہاں اگر تم کمزور ہو، تمہارے ایمان میں خلل ہے، تو پھر وہ تم پر حاوی ہو جائیں گے، لیکن شرک اور کفر میں اتنی نحوست ہے کہ یہ مردار اور متعفن ہیں اور ان [1] صحیح البخاري: کتاب المغازي، باب شھود الملائکۃ بدراً، رقم الحدیث (3799)