کتاب: شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی کے آئینے میں - صفحہ 108
کی اولادیں کریں گی، اولادوں نے کیا اور ایسا کیا کہ وہ علاقوں کے فاتح بن گئے، ایسا قبول کیا کہ ان کی جہود سے علاقوں کے علاقوں کی کایا پلٹ گئی اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے، انہوں نے دین توحید کو قبول کر لیا اور اﷲ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی غلامی کو قبول کر لیا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بھاری آزمائش: عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک بار پوچھا : ’’ ھل مر علیک یوم أشد من أحد؟ ‘‘[1]یا رسول اﷲ! کیا آپ نے احد سے زیادہ سخت دن کبھی دیکھا؟ جنگ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے، چہرہ زخمی ہوا اور آپ کے سر میں بڑا گہرا زخم آیا، خون رکنے کا نام نہیں لے رہا، حتی کہ چٹائی جلائی گئی اور اس کی راکھ سے زخم کو بھرا گیا، تب خون رکا۔[2] عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا اس سے سخت دن آپ نے دیکھا ہے؟ فرمایا کہ ہاں عائشہ! طائف کا دن اس سے سخت تھا، جو اہل طائف نے سلوک کیا، وہ تو کیا، لیکن تم تصور نہیں کر سکتی کہ میں کن بوجھل قدموں سے طائف سے باہر آیا؟ پھر مکہ میں کیسے داخل ہوا؟ میں نے تو اپنی قوم سے کہا تھا، تم نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا ، لیکن بیگانے اس کو قبول کریں گے، اب کس طرح مکہ میں داخل ہوں؟ اور وہ لوگ بھی منتظر تھے کہ اب تو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) بالکل بے یارومدد گار ہے، اب تو کوئی ان کا ساتھی [1] صحیح البخاري: کتاب بدء الخلق، باب إذا قال أحدکم آمین والملائکۃ في السماء فوافقت إحداھما الأخریٰ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ ، رقم الحدیث (3059) صحیح مسلم: کتاب الجھاد والسیر، باب ما لقي النبي صلی اﷲ علیہ وسلم من أذی المشرکین والمنافقین، رقم الحدیث (1795) [2] صحیح البخاري: کتاب الجھاد والسیر، باب لبس البیضۃ، رقم الحدیث (2754) صحیح مسلم: کتاب الجھاد والسیر، رقم الحدیث (1790)