کتاب: شرح حدیث ابن عباس - صفحہ 96
(( لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٌ )) [1] ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں بے شک موت کی سختیاں ہیں۔‘‘ موت کی شدت کے حوالے ہی سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے: ’’لَا أَکْرَہُ شِدَّۃَ الْمَوْتِ لِأَحَدٍ أَبَدًا بَعْدَ النَّبِيِّ صلي اللّٰه عليه وسلم ‘‘[2] ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر موت کی سختی کو ناگوار نہیں جانتی۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’لَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم مِنْ کَرَبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ وَاکَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم لَا کَرْبَ عَلَی أَبِیْکِ بَعْدَ الْیَوْمِ إِنَّہُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِیْکِ مَا لَیْسَ بِتَارِکٍ مِنْہُ أَحَدًا۔ الْمُوَافَاۃُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘‘[3] ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی تکلیف پائی جس قدر پائی تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہائے میرے باپ کی تکلیف، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے بعد تیرے باپ کو ایسی تکلیف کبھی نہیں ہو گی، بے شک تیرے باپ کو وہ چیز (یعنی موت) پیش آگئی ہے جس سے کسی کو چھٹکارا نہیں، قیامت کے روز ملاقات ہو گی۔‘‘ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے موت کے وقت ان کے بیٹے نے کہا: اباجان! آپ فرمایا کرتے تھے کہ کاش مجھے کوئی بڑا عقل مند شخص ملے جو موت کے وقت کی کیفیت مجھے بتلائے، آپ بڑے عقل مند اور فہیم ہیں آپ موت کی نوعیت بیان فرمائیں، انھوں نے فرمایا: بیٹا! اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرا جسم تخت پر ہے اور میں سوئی کے ناکے [1] صحیح البخاري (۴۱۴۹). [2] صحیح البخاري (۴۴۴۶). [3] ابن ماجہ (۱۶۲۹) صحیح.